نئے سال میں اپنی زندگی کیسے تبدیل کریں؟

کیا آپ بھی میری طرح نئے سال کے آغاز پر خود سے نئے وعدے کر رہے ہیں؟ تو ہمارے لیے ایک بری خبر یہ ہے کہ خود سے کیے گئے ایسے آدھے سے زیادہ وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ عہد سال کےپہلے مہینے یعنی جنوری میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ کوشش ہے کہ اِس بار ایسا نہ ہو اور 2019ء میں زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہم اپنے اہداف اس طرح بنائیں کہ ہمارا شمار ان چند افراد میں ہو جو نئے سال میں خود سے کیے گئے وعدے اور عہد مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

سب سے پہلا قدم ہے درست ارادے اور ہدف کا انتخاب۔ آپ کی کامیابی کا انتخاب تبھی زیادہ ہوگا جب آپ خود سے کوئی ایسا عہد کریں گے جسے آپ حاصل بھی کر پائیں اور اس کا کوئی مقصد بھی ہو۔ ٹائم مینجمنٹ کےمعروف ادارے فرینکلن کووی کے مطابق نئے سال کے آغاز پر خود سے کیے گئے وعدوں میں ایک تہائی تو ایسے ہوتے ہیں جو جنوری سے آگے نہیں جاتے۔ ایسے وعدے اس لیے ناکام ہوتے ہیں کیونکہ یہ درحقیقت درست نہیں ہوتے اور ان کے غلط ہونے کی تین اہم وجوہات ہیں:

  • یہ عہد دوسروں (اور معاشرے) کے دباؤ کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے
  • یہ بہت مبہم ہوتا ہے
  • اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کوئی حقیقت پسندانہ منصوبہ مرتب نہیں کیا جاتا

آپ کے اہداف کو اسمارٹ ہونا چاہیے اور مخصوص اور طے شدہ، جو قابلِ حصول بھی ہوں، آپ سے تعلق بھی رکھتے ہوں اور ان کے لیے وقت بھی متعین کیا جائے۔  اب آپ کہیں گے یہ تو مینجمنٹ کا کام ہو گیا، جی ہاں!  نئے سال کے لیے عہد باندھتے ہوئے بھی مینجمنٹ ہی کو کام میں لایا جائے تو بہتر ہے۔

سب سے پہلے یہ کہ آپ کے عہد کو بالکل واضح ہونا چاہیے یعنی اس میں کوئی ابہام نہ ہو۔ یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے وارٹن اسکول میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کیتھرین ملک مین کہتی ہیں کہ "یونہی کہہ دینا کہ 'میں وزن کم کرنا چاہتی ہوں' اِس سے کہیں زیادہ اہم بات ہے ایک مضبوط ہدف بنانا۔ آپ کو ہدف کچھ یوں بناناچاہیے: آپ کو کتنا وزن کم کرنا ہے اور کتنے عرصے میں؟ اگر آپ طے کریں گی کہ اگلے دو مہینے میں پانچ پونڈز  تو یہ زیادہ مؤثر ہوگا۔"

دوسری بات یہ اگر کوئی عادت  ترک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے کچھ طریقے ہیں جیسا کہ ماہرِ نفسیات اور ٹورو کالج آف آسٹیوپیتھک میڈیسن کے پروفیسر جیفری گارڈیئر  کے مطابق  اکر آپ ناخن چبانے کی عادت ختم کرنا چاہتے ہیں تو وقتاً فوقتاً اپنے ناخنوں کی تصاویر لینا شروع کر دیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کے بڑھنے کی رفتار کیسی ہے۔ یوں خود سے کیے گئے ایک وعدے کو مکمل ہوتا دیکھ کر آپ کو حوصلہ ملے گا۔ کسی بھی عہد پر ہونے والی پیشرفت کو، ڈائری یا فون میں، محفوظ کرنے سے آپ خود کو بہتر محسوس کریں گے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کا ہدف قابلِ حصول ہونا چاہیے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ بڑے اہداف نہ رکھیں لیکن ایک مختصر وقت میں بہت بڑا قدم اٹھانے کی بات کرنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں۔ اس سے نہ صرف آپ خود کو پریشان کریں گے بلکہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کی پریشانی کا بھی سبب بنیں گے۔ مثلاً آپ کی عمر 30 سال ہے اور آپ یہ کہیں میں نے اگلے پانچ سال میں اتنے پیسے کمانے ہیں کہ باقی ساری زندگی ریٹائر ہوکر گزاروں تو یہ بات ہرگز حقیقت پسندانہ نہیں ہوگی۔ اس کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے کہ آپ 10 ہزار روپے ماہانہ بچانے کا ہدف بنائیں، یا پھر اپنی بساط کے مطابق 20 ہزار، 30 ہزار وغیرہ، اس سے آپ زیادہ بہتر نتائج حاصل کر پائیں گے۔

کیا نئے سال کے لیے طے شدہ ہدف آپ کے لیے حقیقتاً اہمیت بھی رکھتا ہے یا نہیں؟ اس بات کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔معروف ماہرِ نفسیات اور دو کتابوں کے مصنف ڈائریکٹر مائیکل بینیٹ کہتے ہیں کہ "جذباتی ہو کر خود سے کیے گئے کسی وعدے کی زندگی زیادہ نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلےمیں آپ نے اچھی سوچ بچار کر کوئی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، اپنی زندگی کو تبدیل کرنے کی ٹھانی ہے تو ممکن ہے کہ آپ نتیجے تک بھی پہنچ جائیں۔

ہدف تک پہنچنے کے لیے وقت بھی حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے۔ یعنی  ہم خود کو اتنا وقت ضرور دیں کہ اس کی راہ میں مختلف چھوٹے اہداف پاتے ہوئے حقیقی منزل تک پہنچ جائیں۔ چھوٹی کامیابیوں پر بھی توجہ ضروری ہے تاکہ ہم مرحلہ وار پیشرفت کریں۔

یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں کہ ہمارا جو بھی ہدف ہے، مقصد ہے اس کے لیے ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ ہم پھیریں گے اور وہ حاصل ہو جائے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم 31 دسمبر کی رات کو تہیہ کرکے سوئیں اور یکم جنوری کو صبح اٹھتے ہی ہمیں وہ مقصد حاصل ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں محنت کرنا ہوگی، منصوبہ بندی کرنا ہوگی اور راہ میں آنے والی کئی رکاوٹوں کو بھی عبور کرنا ہوگا۔ اس پورے عمل کے دوران مثبت رویے، حقیقت پسندی اور ثابت قدمی کے ذریعے ہی ہم اپنے ہدف کو حاصل کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ 2019ء آپ کی زندگی میں بہتریاں لائے گا اور آپ کو اپنے نیک مقاصد میں کامیاب کرے گا۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں