دنیا کی امیر ترین شخصیت کس طرح پیسے کماتی اور لٹاتی ہے؟

جیف بیزوس جدید تاریخ کے امیر ترین فرد ہیں۔ ان کی کل مالیت 156 ارب ڈالرز ہے جو انہیں 100 ارب ڈالرز سے زیادہ دولت رکھنے والا تاریخ کا پہلا آدمی بناتی ہے۔ بیزوس کی دولت اتنی زیادہ ہے کہ ان کے لیے 88 ہزار ڈالرز خرچ کرنا ایسا ہی ہے جیسے عام آدمی ایک ڈالر خرچ کر ڈالے۔ اور حیران کُن بات یہ ہے کہ وہ اپنی پوری دولت انسانیت کے لیے خرچ کرنے ک اارادہ رکھتے ہیں، لیکن ٹھیریے ٹھیریے، اس طرح نہیں جس طرح ہم اور آپ سوچ رہے ہیں۔

ایمیزن بیزوس کی دولت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے یہ کمپنی 1994ء میں بنائی تھی اور آج وہ اس کے سی ای او اور سب سے بڑے اسٹاک ہولڈر ہیں، جن کے کمپنی میں 16 فیصد حصص ہیں۔ یعنی ایمیزن کی اسٹاک قیمت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اُن کی دولت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ 1997ء میں IPO کے بعد سے اب تک ایمیزن کے اسٹاک کی قیمت میں 97،000 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

ایمیزن زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا ادارہ بن چکا ہے اور مختلف دوسرے ادارے حاصل کرکے اور سرمایہ کاری کرکے اِس مقام تک پہنچا ہے۔ 2009ء میں ایمیزن نے آن لائن جوتے فروخت کرنے والے ادارے زیپوس کو 1.2 ارب ڈالرز میں خریدا۔ 2017ء میں کمپنی نے ہول فوڈز کو 13.7 ارب ڈالرز میں حاصل کیا جس کی وجہ سے ایمیزن کو امریکا کی آن لائن گروسری مارکیٹ میں 18 فیصد حصہ مل گیا۔ فروری 2018ء میں کمپنی نے ایمیزن ویب سروسز کا اعلان کیا جو اس کا 17.5 ارب ڈالرز کا کلاؤڈ کمپیوٹنگ بزنس ہے۔

اس میں حیرت کی بات نہیں کہ امریکا کے امیر ترین شخص کے پاس ہی ملک کی سب سے زیادہ زمینیں بھی ہیں۔ جیف ریاست واشنگٹن میں 5.3 ایکڑ کا ایک گھر رکھتے ہیں کہ جس کی مالیت 25 ملین ڈالرز ہے۔ ان کے گھر کے قریب ہی دوسرے امیر ترین فرد بل گیٹس رہتے ہیں۔ بیزوس دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں 23 ملین ڈالرز کا گھر بھی رکھتے ہیں کہ جہاں سابق امریکی صدر براک اوباما اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ ان کی پڑوسی ہیں۔ اس کے علاوہ بیورلی ہلز میں ان کا 25 ملین ڈالرز مالیت کا گھر ہے اور ساتھ ہی نیو یارک میں تین اپارٹمنٹس بھی کہ جن کی کل مالیت 17 ملین ڈالرز ہے۔ آخر میں ان کی سب سے بڑی جائیداد ٹیکساس میں 30 ہزار ایکڑ کی زمین ہے ، جو ان کے خلائی تحقیق کے ادارے بلو اوریجن کے لیے بیس کے طور پر کام آتی ہے۔

ان تمام گھروں اور کاروباروں کے علاوہ بیزوس کے پاس 65 ملین ڈالرز کا نجی گلف اسٹریم جیٹ طیارہ بھی ہے۔ دوسرے ارب پتی افراد کی طرح وہ انسان دوستی کے عام اقدامات میں زیادہ شامل نظر نہیں آتے لیکن وہ سیاٹل میں بے گھر افراد کے لیے کام کرنے والے ادارے میریز پلیس کو بہت عطیات دیتے ہیں۔ وہ اہم منصوبوں کے لیے سرمایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ 2013ء میں بیزوس نے اپالو 12 مشن کے راکٹ انجنوں میں سے ایک کو بحر اوقیانوس کی تہہ سے نکالنے کے منصوبے کو سرمایہ اور رہنمائی فرہم کی۔ ان کی درخواست پر ناسا نے یہ راکٹ سیاٹل کے میوزیم آف فلائٹ کو عطیہ کیا۔ 2018ء کے اوائل میں بیزوس نے لانگ ناؤ فائڈیشن کے ذریعے 10 ہزار سالہ گھڑی بنانے کے لیے 42 ملین ڈالرز کا سرمایہ فراہم کیا۔ وہ وینچر کیپٹل ادارے بیزوس ایکسپڈیشنز کے ذریعے کئی سرمایہ کاریاں اور ادارے حاصل کر چکے ہیں اور ذاتی طور پر گوگل، اوبر، ایئر بی این بی اور دیگر اداروں میں سرمایہ کاری رکھتے ہیں کہ جن میں 2013ء میں 250 ملین ڈالرز میں واشنگٹن پوسٹ خریدنا بھی شامل ہے، لیکن ان کا سب سے بلند حوصلہ منصوبہ بلو اوریجن ہے۔

اس ادارے کے نیو شیپرڈ راکٹ نے متعدد کامیاب تجرباتی پروازیں کی ہیں اور اس وقت وہ نیو گلین نامی بڑا راکٹ بنا رہا ہے۔ اس منصوبے کے لیے سرمایہ فرہم کرنے کی خاطر وہ سالانہ ایک ارب ڈالرز کے ایمیزن اسٹاکس تحلیل کرتے ہیں اور ان کا ہدف ہے انسان کا بڑے پیمانے پر خلائی سفر اور نظامِ شمسی میں مختلف مقامات پر آباد کاری۔ وہ خلائی تحقیق کے لیے اپنی تمام دولت استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ بیزوس کے خیال میں یہ بہت اہمیت کا حامل کام ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں