ہمیں اپنی بو کیوں نہیں محسوس ہوتی؟

آپ گھاس کی کٹائی کے بعد قریبی پارک سے اٹھنے والی خوشبو محسوس کر سکتے ہیں۔ سڑک پر سے گزرتے ہوئے کسی دکان پر چکن تکہ بننے کی خوشبو تو ناک میں گھسی جلی آتی ہے۔ ساتھ ہی موزے اتارنے کے بعد بھائی کے پیروں سے اٹھنے والی ناگوار بو کا احساس بھی ہوتا ہوگا۔ ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ہماری ناک تقریباً ایک ٹریلین بوئیں محسوس کر سکتی ہے۔ لیکن اگر بو اپنی بغل سے اٹھ رہی ہو تو محسوس کیوں نہیں ہوتی؟

سائنس دان اس عمل کو olfactory fatigue کہتے ہیں یعنی کہ ہماری سونگھنے کی حس ایسی بو کا احساس ہمارے دماغ کو نہیں ہونے دیتی جو شناسا ہو۔ آپ شاید یقین نہ کریں لیکن درحقیقت یہ بہت اچھی اور اہم خصوصیت ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق پرانی اور شناسا بُو کو محسوس نہ کرنے کی صلاحیت ہمیں نئی اور عجیب بوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جو بالخصوص کسی خطرے کی صور حال میں بہت اہم ہے جیسا کہ کوئی چیز جل رہی ہو وغیرہ۔ جب کوئی بو یا خوشبو ہماری قریب سے گزرتی ہے تو ہماری ناک اس کے مخصوص کیمیائی اجزاء کو سمجھتی ہے اور اس کے سگنل دماغ کو بھیجتی ہے، جو فیصلہ کرتا ہے بھاگنا ہے (یعنی آگ کی صورت میں) یا پھر اس طرف جانا ہے (اگر وہ کھانے کی کوئی مزیدار چيز ہو تو۔ یعنی دونوں صورتوں میں یہ اپنی بغل کی بو محسوس کر پانے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔  

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں