چین کا عظیم کارنامہ، چاند کے اُس طرف خلائی جہاز اتار دیا

خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اور یادگار دن، چین کی قومی خلائی انتظامیہ (CNSA) نے اپنا چانگی-4 روور چاند پر اتاردیا ہے، وہ بھی اس رخ پر کہ جو زمین کی طرف نہیں ہوتا۔ یوں چاند کے چھپے چہرے کے راز افشا کرے گا۔ اب تک روور اپنی پہلی تصویر بھیج چکا ہے جو غیر معمولی ہے۔

یہ بات آپ جانتے ہوں کہ چاند اپنے محور پر گردش نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے اس کی ہمیشہ ایک ہی صورت زمین سے نظر آتا ہے، دوسری جانب کیا ہے؟ یہ سوال ہمیشہ سے سائنس دانوں کے لیے تجسس رکھتا ہے۔ اب انسان اُس سمت کی تفصیلات بھی جانے گا۔

یہ لینڈر ایک چینی سیٹیلائٹ کے ذریعے اپنے پیغامات بھیجے گا جو چاند کے مدار میں موجود ہے۔ کیونکہ چانگی-4 کبھی براہ راست زمین کی طرف نہیں دیکھ سکتا، اس لیے یہ سیٹیلائٹ ریلے بہت اہم ہوگا۔

چاند کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے ہم اپنے سیارے بلکہ نظامِ شمسی کی تاریخ کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں۔ لینڈر دیگر اہم مشاہدے بھی کرے گا اور کیونکہ یہ چاند کی دوسری سمت پر ہے اس لیے زمین بھی اس کے مشاہدوں کی راہ میں نہیں آئے گی۔

چین کے مطابق یہ لینڈر 3 جنوری کو بیجنگ کے وقت کے مطابق صبح 10 بجکر 26 منٹ پر چاند پر اترا۔ اس نے اپنے سفر کا آغاز 8 دسمبر کو زمین سے کیا تھا۔ گو کہ انسان چاند کے اس پہلو کی تصاویر تو کئی خلائی جہازوں سے لے چکا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس کا تیار کردہ کوئی خلائی جہاز کامیابی سے اس طرف اترا ہو۔ 1962ء میں ناسا کا رینجر4 پروب چاند کی دوسری سمت اترا ضرور تھا، لیکن فوراً ہی خراب ہو گیا تھا اور کوئی پیغام زمین پر نہیں بھیج پایا۔

چین اس وقت چانگی-5 پر بھی کام کر رہا ہے جو 2020ء میں لانچ کیا جائے گا۔ یہ خلائی جہاز چاند پر جانے اور پھر وہاں سے زمین پر واپس آنے کی صلاحیت بھی رکھے گا۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں