ایپل کے بعد سام سنگ بھی خسارے کی زد میں

ایپل کے سی ای او ٹم کک کی جانب سے ملازمین اور سرمایہ کاروں کو خبردار کرنے کے بعد کہ سہ ماہی مالیاتی نتائج اچھے نہیں نکلیں گے، سام سنگ نے بھی کچھ ایسا ہی انتباہ جاری کیا ہے۔

2018ء کی چوتھی سہ ماہی کے لیے ادارے کی کُل آپریٹنگ آمدنی  9.6 ارب ڈالرز تھی، جو ماہرین کے اندازوں، 12.3 ارب ڈالرز سے کہیں کم ہے۔ آمدنی 52.3 ارب ڈالرز تھی جو ماہرین کے اندازوں 63.6 ارب ڈالرز سے کہیں کم ہے۔

ان نتائج کی کی ایک وجہ میموری چپس کی طلب میں کمی ہے، جو امریکا اور چین کے تعلقات کی خرابی کی وجہ سے ایپل کے آئی فون کی فروخت پر پڑنے والے اثرات سے کم ہوئی کیونکہ ان فونز میں سام سنگ کی چپس استعمال ہوتی ہیں۔ سام سنگ کے اسمارٹ فون ڈویژن کو بھی منافع کے حوالے سے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ 2019ء کی پہلی سہ ماہی اچھی نہیں ہوگی البتہ سال کی دوسری ششماہی میں اس کے میموری بزنس کی بہتری کی امید ہے۔

سام سنگ کی نظریں چند اہم پہلوؤں پر ہیں۔ اگلے سال کمپنی نے اپنے پہلے فولڈیبل فون کو لانچ کرنا ہے جو آر یا پار والا معاملہ ہوگا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگلے سال سام سنگ 5جی فونز پیش کرے گا اور امید ہے کہ یہ پیشرفت سام سنگ کے فونز کی فروخت میں اضافہ کرے گی۔

دنیا کے سرفہرست تین میں سے دو اداروں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اسمارٹ فون کی مارکیٹ اپنے عروج  پر پہنچ چکی ہے کہ جس میں تقریباً ہر شخص کے بعد ایسا فون ہے جس پر وہ مطمئن ہے اور اسے اپگریڈ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔ جو کسر رہ گئی تھی جو سام سنگ اور ایپل کے فونز کی بڑھتی ہوئی قیمت نے پوری کردی ہے۔ دیکھتے ہیں نئے سال میں ادارے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کون سی حکمت عملی اپناتے ہیں؟

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں