آن لائن دنیا میں اپنی حفاظت کریں، یہ طریقے اپنائیں

مالویئر حملے، ڈیٹا کی چوری اور آپ کو اچھی طرح ٹریک کرکے اشتہارات دکھانا 2018ء کی ڈجیٹل زندگی کے بدترین مظاہر تھے۔ لیکن تبدیل ہوتے ٹیکنالوجی منظرنامے میں ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ آن لائن دنیا میں کیسے محفوظ رہا جائے۔ 2019ء کے آغاز پر اِن تمام تجاویز کو ایک جگہ اکٹھا کرکے آپ کے لیے پیش کر رہے ہیں، جن کی مدد سے آپ اپنی ڈجیٹل زندگی محفوظ بنا سکتے ہیں۔

حدود متعین کریں اور انہی تک محدود رہیں

خود سے اور پیشگی فیصلہ کریں کہ وہ کون ساڈیٹا ہے جو آپ ایپس اور آن لائن سروسز کے ساتھ شیئر کرنا  چاہتے ہیں اور پھر انہی تک محدود رہیں۔ جب کوئی نئی ایپ آپ سے ایسی permission طلب کرے جو آپ کی حدود سے باہر ہو تو آپ اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ اس کے علاوہ آن لائن گفتگو میں بھی اپنی حدود متعین کریں، جب یہ آپ کو پریشان کرنا شروع کردے تو اسے چھوڑ دیں۔ علاوہ اویں، ڈجیٹل سکیورٹی پر صَرف ہونےوالے وقت پر بھی حُدود لگائیں۔

اپنا خول توڑیں

اگر آپ ہماری طرح خبریں بنیادی طور پر سوشل میڈیا سے حاصل کرتے ہیں تو یاد رکھیں یہ سب فلٹر شدہ ہوتی ہیں۔ دراصل سوشل میڈیا کے الگورتھمز طے کرتے ہیں کہ کس صارف کو کیا دِکھانا ہے۔ الگورتھمز کی وجہ سے لوگ صرف انہی ذرائع سے خبریں پانا شروع کر دیتے ہیں جنہیں وہ پسند کرتے ہیں اور جن سے اتفاق کرتے ہیں۔ یوں دوسرے نظریات سے مکمل طور پر لاعلمی آپ کے نقطہ نظر کو چیلنج کر سکتی ہے اور معاشرے میں کسی کی بے جا حمایت  کے عنصر کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔ AllSides اور Purple Feed ان چند مقامات میں شامل ہیں جو مختلف سیاسی نقطہ نظر کی حامل خبریں اور سوشل میڈیا پوسٹس دکھانے والے آن لائن ٹولز ہیں اور ایسی معلومات پیش کرتے ہیں جو عام سیاسی منظرنامے کو پیش کرتی ہے، محض فلٹر شدہ کو نہیں۔

پاس ورڈز کی حفاظت

اب پاس ورڈ سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ آپ کا پاس ورڈ مضبوط نہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ ایک ہی پاس ورڈ اپنے ہر اکاؤنٹ میں استعمال کر رہے ہیں۔ بہتر اور محفوظ طریقہ تو یہی ہے کہ مختلف پاس ورڈز کا استعمال کریں، خاص طور پر اہم اکاؤنٹس کے لیے۔ اس کے لیے پاس ورڈ مینیجر سافٹ ویئرز کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے یا پھر وہی پرانا طریقہ یعنی کسی ڈائری میں پاس ورڈز نوٹ کرلیں۔

Multi-factor authentication آن رکھیں

اپنے اہم ترین سوشل میڈیا، ای میل اور آن لائن بینک اکاؤنٹس میں لاگ اِن ہونے کے لیے یہ اضافی قدم ضرور اختیار کریں کیونکہ کافی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ Multi-factor authentication سسٹم عموماً کسی بھی اکاؤنٹ پر لاگ اِن ہونے سے قبل آپ کو ایک SMS بھیجتا ہے۔ البتہ اِس سے بھی بہتر اور محفوظ عمل فون پر کوڈ جنریٹ کرنے والی مخصوص ایپ کا ہونا ہے۔ جیسا کہ کسی بھی کمپیوٹر یا دوسری ڈیوائس کے ذریعے فیس بک سے لاگ اِن ہونے پر وہ آپ کے فون پر موجود ایپ سے کوڈ جنریٹ کرواتا ہے اور یہ کوڈ ڈال کر ہی آپ نئی ڈیوائس پر لاگ اِن ہو سکتے ہیں۔

استعمال نہ ہونے والی ایپس ڈیلیٹ کردیں

اسمارٹ فون ایپس آپ کو ٹریک کرتی ہیں اور آپ کے لوکیشن ڈیٹا کو اشتہارات دینے والی اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔ یعنی صرف جیب میں فون ہونا ہی کافی ہے جس سے ان کمپنیوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ  آپ کہاں گئے اور وہاں کتنی دیر ٹھہرے جبکہ آپ کے فون کی تکنیکی تفصیلات بھی آپ کی شناخت ظاہر کرتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ کوئی ایپ استعمال نہیں کرتے تو اسے فون سے نکال دیں۔ اگر دوبارہ کبھی ضرورت پڑے تو انسٹال کر لیجیے گا ۔یوں عدم استعمال کے باوجود کوئی ایپ ہر جگہ آپ کو ٹریک کرتی رہے، اس سے بچ جائیں گے۔

ایپس اپڈیٹ رکھیں

سافٹ ویئر کمپنیاں اپنے پروگراموں کی تمام خامیوں کے بارے میں نہیں جانتیں – اور جب وہ اپڈیٹس جاری کرتی ہیں تو صارفین کو اندازہ نہیں ہوتا کہ اس اپڈیٹ میں کسی بڑے مسئلے کو فکس کیا گیا ہے یا چھوٹی موٹی چیزیں دیکھی گئی ہیں۔ اس لیے ماہرین کہتے ہیں کہ اپنے کمپیوٹرز اور موبائلز پر سافٹ ویئرز کو اپ ٹو ڈیٹ رکھیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں