دنیا کے سب سے زیادہ صحت مند شہر، پیرس پہلے نمبر پر

اگر آپ اپنی صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند شہر جانا چاہتے ہیں تو آپ کو فرانس کے دارالحکومت پیرس کا رُخ کرنا چاہیے کیونکہ اسے دنیا کا سب سے صحت مند شہر قرار دیا گیا ہے۔ تھائی لینڈ کا شہر چیانگ مائی اور اسپین کا شہر بارسلونا دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

محققین نے 100 شہروں کی یہ رینکنگ شہر میں موجود پارکوں، جم، حماموں، یوگا مراکز، ہیلتھ فوڈ شاپس اور صرف سبزی خوروں کے لیے موجود ریستورانوں کے علاوہ دھوپ کے اوقات اور ایک دن قیام کی لاگت کی بنیاد پر ترتیب دی ہے۔

ٹریول سپر مارکیٹ کی تحقیق نے پیرس کو 100 میں سے 61.9 نمبرز دیے ہیں۔ انہوں نے پایا کہ فرانسیسی دارالحکومت میں شہر بھر میں 894 حمام موجود ہیں جبکہ گوشت سے پرہیز کرنے والے افراد کے لیے 1305 ریستوران اور 150 سے زیادہ ہیلتھ فوڈ شاپس ہیں۔

چیانگ مائی کا اسکور 59.6 ہے جس میں فی کلومیٹر 7 حمام اور سبزی خوری کے لیے 307 ریستوران ہیں۔ بارسلونا 52.1 نمبروں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے کہ جہاں 1350 سبزی خور ریستوران، 510 حمام اور 32 یوگا مراکز ہیں۔

ٹاپ 10 میں دیگر شہر پتایا، تھائی لینڈ چوتھے، وینکوور، کینیڈا پانچویں، میامی، امریکا چھٹے، سان فرانسسکو، امریکا ساتویں، لزبن، پرتگال آٹھویں، انڈونیشیا کا شہر ڈین پنسر نویں اور بیونس آئرس 10 ویں نمبر پر ہے۔

رینکنگ میں برطانوی دارالحکومت لندن 67 ویں نمبر پر ہے، جس کی وجہ شاید یہاں یوگا اسٹوڈیوز کا نہ ہونا اور قیام گاہوں کا بہت مہنگا ہونا ہے۔ حالانکہ یہاں سبزی خوری کے لیے 4 ہزار ریستوران اور 665 حمام ہیں۔

ٹاپ20 میں امریکی شہر کافی ہیں، دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی 15 ویں، نیو یارک شہر 17 ویں اور لاس اینجلس 20 ویں نمبر پر ہے۔

آسٹریلیا میں سب سے آگے میلبرن ہے لیکن وہ بھی عالمی رینکنگ میں 78 ویں نمبر پر ہے۔

مشرق وسطیٰ کے شہر بھی نمایاں ہیں جیسا کہ قطری دارالحکومت دوحہ 14 ویں جبکہ اسرائیلی شہر تل ابیب16 ویں نمبر پر ہے۔ دوبراعظموں میں واقع عظیم تاریخی شہر استنبول 21 ویں جبکہ انڈونیشی دارالحکومت جکارتہ 25 ویں نمبر پر دکھائی دیتا ہے۔ مصری اور سعودی دارالحکومت قاہرہ اور ریاض بالترتیب 32 ویں اور 33 ویں درجے پر نظر ہیں۔

بھارت کا سب سے صحت مند شہر چنئی ہے جو 15.80 نمبروں کے ساتھ 41ویں نمبر پر ہے جبکہ رینکنگ میں سب سے نچلے شہر ترکی میں آرتوِن، مراکو کا شہر مراکش اور کمبوڈیا کا شہر سیام ریپ ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں