بچوں کے لیے دنیا کے بدترین مقامات

خانہ جنگی، بیرونی طاقتوں کے قبضے اور قبائلی کشمکش کی وجہ سے کروڑوں بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے اور عالمی ماہرین اس صورت حال سے نمٹنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ یہ بات یونی سیف کے ڈائریکٹر ایمرجنسی پروگرامز مینوئل فونٹین نے کی، جن کا کہنا ہے کہ "دنیا بھر میں جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کو پچھلے سال بدترین حالات کا سامنا رہا۔"

ان ممالک میں رہنے والے بچے براہ راست حملوں کی زد میں ہیں، انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، مارا جاتا ہے، معذور کردیا جاتا ہے یا پھر لڑائی کے لیے بھرتی بھی کیا جاتا ہے۔ شام اور یمن سے لے کر عوامی جمہوریہ کانگو، نائیجیریا، جنوبی سوڈان اور برما تک بچوں کا ریپ، جبری شادی اور اغواء معمول بن چکا ہے۔

افغانستان میں ظلم اور تشدد عام ہے، 2018ء کی پہلی تین سہ ماہیوں میں ہی 5 ہزار بچے قتل یا معذور کردیے گئے۔ جنگوں کے زمانے کی دھماکا خیز باقیات سے ہونے والی شہری اموات میں 89 فیصد بچے ہوتے ہیں۔

کیمرون کے شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے کہ جہاں اسکول، طلبہ اور اساتذہ بھی حملوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ نومبر میں 80 سے زیادہ افراد کہ جن میں کئی بچے بھی شامل تھے، شمال مغربی شہر اینکوین سے اغواء ہوئے اور چند روز بعد رہا کیے گئے۔ علاقے میں اب تک 93 دیہات مکمل یا جزوی طورپر جلائے جا چکے ہیں، جن میں کئی بچوں کو انتہائی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

وسطی افریقی جمہوریہ کے بیشتر حصوں میں خانہ جنگی پھیل چکی ہے اور دو تہائی بچوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

عوامی جمہوریہ کانگو میں خانہ جنگی اور کئی علاقوں میں سکیورٹی افواج اور مسلح گروپوں کے درمیان تصادم کے بچوں پر بھیانک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس وقت تقریباً 42 لاکھ بچے سنگین غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ مسلح گروپوں کی جانب سے بچوں کی جبری بھرتی اور ان کے جنسی استحصال سے یہ صورت حال مزید گمبھیر ہوگئی ہے۔

عراق میں گو کہ جنگ اب بڑے پیمانے پر ختم ہو چکی ہے، لیکن نومبر میں ملک کے شمالی علاقوں میں اسکول جانے والے بچوں کی گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں چار بچے مارے گئے۔ جنگ زدہ علاقوں میں امن ہو جانے کے بعد وہاں واپس آنے والے خاندانوں کو ایسے دھماکا خیز مواد سے بھی خطرہ ہے جو اردگرد پھیلا ہوا ہے اور لڑائی کے دوران پھٹا نہیں تھا۔

افریقی ملک چاڈ میں جاری تنازع میں اسکولوں اور اساتذہ اور دیگر تعلیمی اداروں پر حملے عام ہیں جن کی وجہ سے 35 لاکھ بچے خطرے سے دوچار ہیں۔ شمال مشرقی نائیجیریا کے ساتھ واقع علاقے میں کم از کم 1041 اسکول ان کارروائیوں کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں جن سے لگ بھگ ساڑھے 4 لاکھ بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

مالی، برکینا فاسو اور نائیجر کے سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے 1478 اسکول بند ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کو برما کی شمالی ریاست اراکان میں روہنگیا برادری کے  خلاف جاری تشدد کی رپورٹیں مسلسل موصول ہو رہی ہیں کہ جن میں قتل و غارت گری، لاپتہ کرنا اور اغوا کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ نقل و حرکت کی آزادی پر بڑی پابندیاں ہیں اور صحت اور تعلیم تک رسائی میں بھی رکاوٹیں پیدا کی گئی ہیں۔

شمال مشرقی نائیجیریا میں بوکو حرام جیسے مسلح گروپ بدستور لڑکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن سے ریپ کیا جاتا ہے اور انہیں جنگجوؤں کی بیویاں بنا لیا جاتا ہے یا پھر "انسانی بم" کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ فروری میں ایک گروپ نے یوبے ریاست میں 110 لڑکیوں اور ایک لڑکے کو کالج سے اغواء کیا۔ اب تک بیشتر بچے رہا کیے جا چکے ہیں البتہ پانچ لڑکیاں اس دوران مر چکی تھیں اور ایک اب بھی غلام کے طور پر ان کی قید میں ہے۔

فلسطین میں گزشتہ سال 50 سے زیادہ بچے جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر غزہ میں بدترین حالات کے خلاف مظاہروں میں مارے گئے۔

جنوبی سوڈان میں جاری تنازع اور عدم تحفظ نے 61 لاکھ افراد کو شدید بھوک کے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ بارش کے موسم کے آغاز کے باوجود 43 فیصد آبادی اب غذائی عدم تحفظ کی شاکر ہے۔ ایک نئے امن معاہدے نے بچوں کے لیے امید کی کرن تو پیدا کی لیکن بچوں اور عورتوں کے خلاف سخت تشدد کی خبریں اب بھی موصول ہو رہی ہیں۔ بنتو کے علاقے میں 150 خواتین اور لڑکیوں کو بھیانک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔

صومالیہ میں سال کے ابتدائی 9 ماہ میں متصادم فریقین نے 1800 بچے بھرتی کیے۔

شام میں جنوری سے ستمبر کے دوران اقوام متحدہ نے 870 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جو 2011ء میں تنازع کے آغاز سے اب تک کسی بھی سال کے ابتدائی نو مہینوں میں بچوں کے مارے جانے کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ حملے سال بھر جاری رہے، جن مین نومبر میں شافا کے گاؤں پر ہونے والا وہ حملہ بھی شامل ہے کہ جس میں 30 بچے جاں بحق ہوئے تھے۔

مشرقی یوکرین میں چار سال سے جاری تنازع نے تعلیمی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے کیونکہ اس کشمکش میں سینکڑوں اسکول تباہ ہوئے ہیں اور 7 لاکھ بچے اب خطرناک ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری علاقوں کی سرحد کے قریب رہنے والے 4 لاکھ بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ یہ دو طرفہ گولا باری اور بارودی سرنگوں کی زد میں ہیں۔

یمن میں اقوام متحدہ نے مختلف حملوں میں 1427 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں سعدہ میں اسکول پر ہونے والا مایوس کن حملہ بھی شامل ہے۔ اسکول اور ہسپتال مسلسل حملوں کا نشانہ ہیں یا انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے بچے صحت اور تعلیم کی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یمن میں ہر 10 منٹ میں ایک بچہ اس مرض کی وجہ سے مر جاتا ہے جو قابلِ علاج ہے اور 4 لاکھ بچے سخت غذائی کمی کا شکار ہیں۔

2019ء میں بچوں کے حقوق کے کنونشن کو 30 اور جنیوا کنونشن کو 70 سال مکمل ہو رہے ہیں، لیکن آج بھی گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے زیادہ ممالک داخلی و بین الاقوامی تنازع کا شکار ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں