اگر زمین کے دو چاند ہوں تو کیا ہوگا؟

چین کا ایک شہر 2020ء تک مدار میں ایک مصنوعی چاند بھیجنا چاہتا ہے تاکہ وہ اسٹریٹ لائٹس کے لیے درکار بجلی کے اخراجات کم کر سکے۔ اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوتی ہے یا نہیں، لیکن یہ خیال بہت اچھوتا ہے اور یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ اگر زمین کے دو چاند ہوتےتو کیا ہوتا؟ سوچنے میں تو یہ بڑا دلچسپ سوال لگتا ہے لیکن حقیقت بھیانک ہوتی۔

تصور کیجیے کہ ایسا ہی ایک چاند نمودار ہوتا ہے اور زمین کی کشش ثقل کی زد میں آ جاتا ہے۔ اگر وہ زمین اور ہمارے اصل چاند کے درمیان جگہ بنا لیتا ہے تو دنیا بھر کے سمندروں میں بھونچال آ جائے گا۔ ہمارا اصل چاند بھی سمندر میں مد و جزر کا سبب بنتا ہے اور کسی دوسرے چاند کی موجودگی ان اثرات میں مزید اضافہ کرے گی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہریں 6 گنا زیادہ بلند ہوں گی اور دنیا بھر کے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتی ہیں جیسا کہ کراچی، ممبئی، نیو یارک، سنگاپور وغیرہ کو صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔

تباہی صرف زمین پر ہی نہیں ہوگی بلکہ زمین اور ہمارے اصل چاند کی کشش ثقل اس دوسرے چاند کو ایک دوسرے کی جانب کھینچیں گی۔ زمین اور اصل چاند کی رسہ کشی کے نتیجے میں اس دوسرے چاند کی سطح پر زبردست آتش فشانی سرگرمی پیدا ہوگی اور اس پر ویسے ہی لاوا بہتا دکھائی دے گا جیسا کہ مشتری کے چاند ایو پر آج سینکڑوں آتش فشاں پھٹتے نظر آتے ہیں۔

اِس وقت ہمارا چاند زمین سے سالانہ 3.8 سینٹی میٹر دور ہو رہا ہے، لگ بھگ وہی رفتار جس سے ہمارے ناخن بڑھتے ہیں۔ اسی دوران اس کی کشش زمین کی گردش کو دھیما کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر 40 ہزار سال میں ہمارا دن ایک سیکنڈ طویل ہو رہا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے سننے میں زیادہ نہ لگتا ہو، لیکن دو چاندوں کی موجودگی یہ عمل بھی کہیں زیادہ تیز ہو جائے گا۔

آج سے کئی ملین سال بعد دن 16 فیصد زیادہ بڑا ہو جائے گا! یعنی 28 گھنٹے سے بھی زیادہ طویل! دن کے اوقات بڑھنا سن کر کچھ لوگوں کی آنکھیں چمک رہی ہوں گی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دوسرا چاند بھی ہمارے اصل چاند کی جانب جھک رہا ہوگا اور یہی سے اصل خطرے سے بات شروع ہوتی ہے۔ کئی ملین سال کے بعد یہ دونوں چاند آپس میں ٹکرا جائیں گے اور یہ ٹکراؤ اتنا بڑا ہوگا کہ دونوں چاندوں ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ان کے مرکزوں سے لاوا نکل پڑے گا، جس سے آسمان پر تیز سرخ روشنی نکلتی محسوس ہوگی۔ چاند کا ملبہ ہر سمت پھیلے گا اور کچھ زمین سے بھی ٹکرائے گا جس سے زمین پر کئی میل بڑے گڑھے پڑ جائیں گے۔

یہ گویا قیامت ہوگی اور زمین پر تمام اقسام کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے کا۔

جو ملبہ زمین کی کشش ثقل کی زد میں نہیں آئے گا وہ خطِ استوا کر اوپر ایک چھلّے کی صورت بنا لے گا، بالکل ویسی ہی جیسی زحل کے گرد موجود ہے۔ لیکن یہ چھلّا زیادہ عرصہ نہیں رہے گا اور بالآخر یہ سارا ملبہ مل کر ایک بڑے واحد جسم کی صورت اختیار کرلے گا۔ اگر زمین پر زندگی کی کوئی صورت بچی تو وہ اسے چاند کہے گی۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں