کو-ایجوکیشن لڑکیوں کے اعتماد کی قاتل ہے، مغربی تحقیق

غیر مخلوط تعلیم لڑکیوں میں لڑکوں جیسا اعتماد لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، یہ بات ایک تحقیق میں پائی گئی ہے۔

شواہد ثابت کرتے ہیں کہ چند لڑکیاں چھ سال کی عمر سے یہ سمجھنے لگتی ہیں کہ وہ لڑکوں جیسی ہوشیار نہیں ہو سکتیں لیکن تحقیق نے پایا کہ جوبچیاں صرف لڑکیوں کے اسکول میں پڑھتی ہیں، ان کو اعتماد کے اس بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

اس تحقیق میں 12 سے 17 سال کی عمر کے 1 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو استعمال کیا گیا کہ جن میں لڑکوں اور لڑکیوں میں خود اعتمادی میں کوئی فرق نہیں پایا گیا۔

گزشتہ تحقیقیں نے پایا کہ لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں اپنی صلاحیتوں پر کم اعتماد ہوتا ہے، جو سائنس و ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں کیریئر بنانے میں خواتین کی کمی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ لیکن تازہ ترین نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ جن لڑکیوں کو علیحدہ تعلیم دی جاتی ہے، ان میں لڑکوں کے مقابلے میں احساسِ کمتری نہیں پایا جاتا۔

یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کی اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ٹیری فزسیمنز کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ ہماری تحقیق نوعمر لڑکیوں میں اعتماد بڑھانے میں اساتذہ کی مدد کرے گی۔

تحقیق کا کہنا ہے کہ والدین اور اساتذہ بچوں پر نوعمری میں ہی واضح کر سکتے ہیں کہ 'لڑکے کون سے کام اچھے کرتے ہیں' اور 'لڑکیاں کن کاموں میں اچھی ہوتی ہیں۔' مزید کہا گیا کہ سفر، کھیل اور قائدانہ کردار اسکول جانے والے بچوں کے اعتماد کو سب سے زیادہ بڑھاتے ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں