سردیوں میں سیاحت کے لیے کہاں جائیں؟

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے لیکن آجکل یہ علاقے 'برفانی جہنم' بنے ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان کے تمام اہم علاقوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کہیں نیچے چلا گیا ہے اور برف باری اور بارش نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں کا براہِ راست زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سیاحت کے شوقین افراد پریشان ہیں کہ اب جائیں تو کہاں جائیں؟ آئیے آپ کو پانچ ایسے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں آپ موسمِ سرما میں بھی باآسانی سیاحت کے لیے جا سکتے ہیں۔

گورکھ ہِل

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں اور ذرا مختلف موسم کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں تو "سندھ کے مری" یعنی گورکھ ہل چلے جائیں۔ یہ کراچی سے 423 اور دادو سے 94 کلومیٹر دور سندھ-بلوچستان سرحد پر واقع ایک ہل اسٹیشن ہے کہ جہاں کراچی کے معتدل موسم کے عادی شہری سخت سردی کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ گورکھ ہل سطحِ سمندر سے لگ بھگ 5 ہزار 700 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ سندھ میں شدید ٹھنڈ کا لطف اٹھانے کے لیے یہ بہترین مقام ہے اور یہاں حکومت کی جانب سے سیاحوں کے لیے کافی سہولیات بھی فراہم کی  گئی ہیں۔


فورٹ منرو

جو مقام سندھ جیسے میدان علاقے میں گورکھ ہل کو حاصل ہے، بالکل وہی حیثیت جنوبی پنجاب میں فورٹ منرو کی ہے۔ یہ ہل اسٹیشن ڈیرہ غازی خان سے 85 کلومیٹر دور  کوہِ سلیمان میں واقع ہے۔ یہ سطحِ سمندر سے تقریباً ساڑھے 6 ہزار فٹ بلند ہے۔ حکومتِ پنجاب نے یہاں سیاحوں کے لیے کافی سہولیات مہیا کی ہیں اور اس وقت ایک بہترین سڑک کی تعمیر بھی جاری ہے جس کے بعد فورٹ منرو جانا مزید آسان ہو جائے گا۔


ننگرپارکر

موسمِ گرما میں صحرا کا تصور  بھی نہیں کیا جا سکتا اس لیے اگر آپ صحرائے تھر کے خوبصورت قصبے ننگر پارکر جانا چاہتے ہیں تو یہ بہترین وقت ہے۔  پاک-بھارت سرحد کے قریب کارونجھر کی خوبصورت پہاڑیوں میں واقع یہ شہر اپنی قدیم ہندو اور جین تہذیب کے مراکز اور صحرا میں گلزار ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں کی جین تعمیرات کے انداز میں بنی بھوڈیسر مسجد بھی کافی مشہور ہے جو 500 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ شہر میں ہندو آبادی کی اکثریت ہے بھارتی سرحد یہاں سے صرف 16 کلومیٹر دور واقع ہے۔


بہاولپور

آپ کا تعلق جنوبی سندھ سے ہو، مغربی بلوچستان سے یا پھر شمالی پنجاب سے، روزمرہ کی زندگی سے بیزار ہوکر کسی نئے مقام پر گھومنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور اس کے لیے زیادہ دور بھی نہیں جانا چاہتے تو بہاولپور بہترین مقام ہے۔ جنوبی پنجاب میں واقع یہ نوابوں کا شہر اپنے خوبصورت محلات، قلعہ دراوڑ اور صحرائے چولستان کی وجہ سے مشہور ہے۔ نور محل، دربار محل اور صادق گڑھ محل تعمیرات کے شاہکار ہیں۔ شہر چولستانی  ثقافت کا مرکز  ہے۔


گوادر

بلوچستان کا ساحلی شہر گوادر آئندہ چند سالوں میں ایک اہم تجارتی مرکز بننے کے ساتھ سیاحوں کا بھی گڑھ بن جائے گا، جس کی وجہ ہے یہاں کے خوبصورت ساحل اور دیگر قدرتی نظارے۔ بحیرۂ عرب میں ایک جزیرہ نما پر واقع اس شہر کے دونوں جانب قدرتی خلیجیں واقع ہیں یعنی شہر کے آخری مرکز کوہِ باطل پر کھڑے ہوکر دیکھیں تو آپ کو تین جانب سمندر نظر آئے گا۔ گوادر جانے والی مکران کوسٹل ہائی وے بھی خوب قدرتی نظارے پیش کرتی ہے جن میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے حیران کن پہاڑی خد و خال اور صحرا و سمندر کے حسین ملاپ بھی نظر آتے ہیں۔ گوادر کا موسم سردیوں میں بھی معتدل رہتا ہے اور انہی دنوں میں یہاں کی سیاحت کا اصل لطف آتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں