ملٹی ٹاسکنگ، خراب یادداشت کا اہم سبب

کتنے لوگ ٹیلی وژن دیکھنے کے لیے بیٹھتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ پر بھی کام کرنے لگتے ہیں؟ اسے "میڈیا ملٹی ٹاسکنگ" کہتے ہیں اور آپ ایسا کرنے والے اکیلے نہیں بلکہ ملٹی ٹاسکرز بلاشبہ کروڑوں میں ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ یہ سمجھ رہے ہوں کہ معلومات کے مختلف ذرائع کے درمیان توجہ کو یوں منتقل کرنا دماغ کے لیے اچھی مشق ہو سکتی ہے اور یادداشت مضبوط ہوتی ہوگی ، لیکن اصل میں معاملہ الٹا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق نے پایا ہے کہ زیادہ ملٹی ٹاسکنگ کرنے والے افراد کسی بھی کام پر توجہ رکھنے میں بدترین ہیں اور ان کی یادداشت بھی اچھی نہیں ہوتی۔ بلکہ چند میں تو دماغ کی ساخت بھی مختلف پائی گئی۔

تحقیق نے توجہ اور دھیان کی جانچ کے دوران زیادہ ملٹی ٹاسکنگ کرنے والے افراد  کو ہلکی پھلکی ملٹی ٹاسکنگ کرنے والوں کے مقابلے میں 8 سے 10 فیصد بدتر پایا۔ اس عمل کے دوران شرکاء کو 20 منٹ یا اس سے زیادہ کسی مخصوص کام پر توجہ رکھنی تھی۔

سائنس دانوں نے پایا کہ اس عمل کے دوران زیادہ ملٹی ٹاسکنگ کرنے والوں کے لیے توجہ برقرار رکھنا سب سے زیادہ مشکل تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ توجہ میں کمی کی وجہ سے ہی یہ لوگ زیادہ ملٹی ٹاسکنگ کرتے ہیں یعنی ایک کام پر مکمل دھیان رکھنے کے بجائے جلدی جلدی اِدھر اُدھر توجہ کرتے ہیں۔

یادداشت کی جانچ میں بھی زیادہ ملٹی ٹاسکنگ کرنے والوں کی حالت خراب دکھائی دی۔ انہیں معلومات کو یاد کرنے اور یاد رکھنے کے عمل سے گزارا گیا جیسا کہ  پین یا کاغذ کا کوئی ٹکڑا تلاش کرتے ہوئے فون نمبر یاد کرنا وغیرہ۔

شرکاء کے دماغی اسکین نے بھی ظاہر کیا کہ دماغ کا وہ حصہ جو Anterior Cingulate Cortex کہلاتا ہے ، زیادہ ملٹی ٹاسکنگ کرنے والے افراد میں چھوٹا ہے۔ دماغ کا یہ حصہ توجہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ جتنا چھوٹا ہوگا اتنی ہی توجہ میں کمی دکھائی دے کی۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں