بڑا پیٹ یعنی چھوٹا دماغ ، موٹاپا دماغی امراض کا بھی باعث

توند جتنی بڑھتی جائے گی، صحت کے لیے مسائل میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا، یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لیکن اب یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ موٹاپا ہمارے دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ایک حالیہ تحقیق زبردست شواہد فراہم کرتی ہے کہ موٹاپا، بالخصوص پیٹ کے گرد موجود چربی، دماغ کے حجم میں کمی لاتی ہے۔ پھر یہ بات تو تحقیق سے ثابت ہے ہی کہ دماغ کا سکڑنا حافظے کی کمزوری اور نسیان کا خطرہ بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔

معرف جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اگر آپ کے پیٹ کے گرد چربی بہت زیادہ ہے تو ممکنہ طور پر آپ کے دماغ میں "گرے میٹر" کا حجم کم ہوگا۔ یہی وہ مادّہ ہے جو دماغ کے 100 ارب اعصابی خلیات کا بیشتر حصہ ہے، جبکہ "وائٹ میٹر" دماغ کے مختلف حصوں کو باہم جوڑنے والے اعصابی ریشوں میں ہوتا ہے۔

انگلینڈ کی لافبرا یونیورسٹی کے مارک ہیمر کے مطابق اس تحقیق میں برطانیہ کے تقریباً 10 ہزار افراد شامل تھے جن کی عمریں 40 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کے باڈی ماس انڈیکس (BMI) کی پیمائش کی گئی۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی شخص کی قامت اور وزن کے ذریعے اس کو اسکور دیا جاتا ہے۔ عموماً 18.5 سے 24.9 کے درمیان اسکور کو صحت مند سمجھا جاتا ہے جبکہ 30 سے زیادہ اسکور رکھنے والے کو موٹاپے کا شکار کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک waist-to-hip تناسب بھی ہے جس میں مردوں کا اسکور 0.90 اور عورتوں کا 0.85 سے زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ فرد موٹاپے کا شکار ہے، یعنی اس کا پیٹ اس کے کولہوں سے زیادہ بڑا ہے۔ تحقیق میں شامل تمام افراد کے جسم MRI کے ذریعے اسکین کیے گئے تھے۔

سائنس دانوں نے عمر، جسمانی سرگرمی، تمباکو نوشی اور بلند فشارِ خون سمیت دیگر عوامل پر بھی نظر ڈالی کہ جو دماغ کے حجم میں کمی کا باعث بن سکتے تھے۔ انہوں نے پایا کہ جن افراد کا BMI اور waist-to-hip تناسب زیادہ تھا ان کے دماغ میں گرے میٹر کی مقدار بھی کم تھی۔ لگ بھگ 1300 افراد ایسے نکلے جن کا BMI بھی زیادہ تھا اور waist-to-hip بھی  اور ان افراد میں گرے میٹر کا حجم 793 مکعب سینٹی میٹر تھا جبکہ ان 3025 افراد میں کہ جن کے اسکور صحت مند تھے، گرے میٹر کا حجم 798 مکعب سینٹی میٹر تھا۔

یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ان کی یہ تحقیق سائنس دانوں کو موٹاپے سے دماغی صحت کو لاحق خطرات پر مزید کام کرنے کی تحریک دے گی۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں