وہ شاندار فلمیں جو آسکرز کے لیے نامزد تک نہ ہو سکیں

"اکیڈمی ایوارڈز" کو فلمی دنیا کا سب سے بڑے اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ 91 ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب 24 فروری کو ہوگی جس کے لیے نامزدگیاں اب مکمل ہو چکی ہیں۔ Favourite اور Roma کو سب سے زیادہ 10 نامزدگیاں ملی ہیں اور یہ دونوں بہترین فلم کے اعزاز کے لیے بھی مقابلہ کریں گی۔ اس زمرے میں ان دونوں فلموں کا مقابلہ BlacKkKlansman، Black Panther، Bohemian Rhapsody، Green Book، A Star Is Born اور Vice۔ آخری دونوں فلمیں آٹھ اعزازات کے لیے نامزد ہوئی ہیں۔ ان میں سے کون سی فلم جیتے گی؟ یہ تو ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ماضی میں کئی ایسی شاندار فلمیں بھی گزری ہیں جنہیں آسکرز میں نامزدگی تک نہیں ملی۔ جیسا کہ مشہورِ زمانہ Zodiac۔

Zodiac

ڈیوڈ فِنچر اپنے زمانے کے بڑے فلم سازوں میں سے ایک تھے۔ ان کا فلم سازی کا انوکھا انداز دنیا بھر میں معروف ہے۔ انہوں نے Se7en اور Fight Club جیسی شاہکار فلمیں بھی بنائیں لیکن جب 2007ء میں Zodiac جاری کی تو لگتا تھا بالآخر ڈیوڈ کو اکیڈمی ایوارڈ مل جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، فلم کسی ایک زمرے کے لیے بھی نامزد نہ ہو سکی۔


Heat

اس فلم کے لیے ہدایات دینے والے مائیکل مین وہی ہیں جو The Last of the Mohicans اور Collateral جیسی فلمیں بھی بنا چکے  ہیں۔ Heat میں رابرٹ ڈی نیرو اور ال پچینو جیسے بڑے اداکار بھی تھے ، کہانی بہترین تھی، سینماٹوگرافی جاندار، ایک ایسی فلم جو کرائم فلمیں دیکھنے والے ہر شخص کو دیکھنی چاہیے لیکن اکیڈمی میں کسی نے اس فلم کو گھاس نہ ڈالی۔


Scarface

ال پچینو کی ایک اور فلم۔ 1983ء میں بننے والی Scarface۔ کسی بھی فلم کی کامیابی کو جانچنے کے مختلف پیمانے ہیں، ناقدین کیا کہتے ہیں؟ ایوارڈز کتنے ملے؟ باکس آفس پر کیسا بزنس کیا؟ یا پھر اس کے ثقافتی اثرات کیا ہیں؟ Scarface ہر لحاظ سے ایک غیر معمولی فلم تھی لیکن جب یہ جاری ہوئی تھی، تب اسے منفی تجزیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایک آسکر کے لیے بھی نامزد نہ ہو سکی۔


Mean Streets

مارٹن اسکورسیزے کا نام سنتے ہی ذہن میں آتا ہے اکیڈمی ایوارڈ۔ ان کی فلمیں  اکیڈمی ایوارڈز میں 80 نامزدگیاں لے چکی ہیں اور 20 اعزازات بھی جیتے ہیں لیکن 1973ء میں یہ اسکورسیزے کی محض تیسری فیچر فلم تھی اور عوامی سطح پر مقبولیت پانے والی پہلی۔ ناقدین نے بھی اس فلم کو سراہا اور باکس آفس پر بھی اچھا بزنس کیا لیکن اکیڈمی اسے خاطر میں نہیں لائی۔


Paths of Glory

شہرۂ آفاق ڈائریکٹر اسٹینلی کیوبرک کی یہ متنازع جنگ مخالف فلم 1957ء   میں جاری ہوئی اور تمام تر کامیابیوں کے باوجود اکیڈمی کو متاثر نہیں کر پائی۔ یہ کیوبرک کی ابتدائی فلموں میں سےایک تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ اکیڈمی مارٹن اسکورسیزے کی طرح ان کو قبل از وقت نہ پہچان سکی۔ ہو سکتا ہے کہ فلم کے پیغام سے اکیڈمی خوفزدہ ہوگئی ہو اور اسی لیے کسی اعزاز کے لیے نامزد نہیں کیا؟


The Shining

Paths of Gloryبنانے کے 23 سال بعد کیوبرک نے اکیڈمی کی جانب سے اس فلم کو نظر انداز کرنا حیران کن تھا حالانکہ درمیان میں کیوبرک کافی سفر طے کر چکے تھے اور ان کی فلمیں کئی مرتبہ مختلف اعزازات کے لیے نامزد بھی ہو چکی تھیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ نہ صرف اکیڈمی بلکہ گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے یہ بھی اس فلم کو نامزد نہیں کیا گیا اور اس وقت کے ناقدین نے بھی نہیں سراہا۔ آج اسے تاریخ کی بہترین اور عظیم ترین ہارر فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔


The Good, The Bad and The Ugly

اگر آپ ویسٹرن فلمیں دیکھنے کے شوقین نہیں تب بھی آپ نے The Good, The Bad and The Ugly ضرور دیکھی ہوگی اور اسے پسند بھی کیا ہوگا۔ سرجیو لیون کی اس فلم میں کلنٹ ایسٹ ووڈ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ شاید اس زمانےمیں اس طرح کی ویسٹرن فلموں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ تاثر زائل ہو گیا اور آج The Good, The Bad and The Ugly کو ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں