فیس بک ایپ کو ڈیلیٹ کرنا اب ناممکن ہو جائے گا

فیس بک نے سام سنگ اور دیگر اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز بنانے والے اداروں کے ساتھ ایسے معاہدے کرلیے ہیں تاکہ فیس بک ایپ کو ڈیلیٹ کرنا ناممکن ہو جائے۔

معاہدے کے مطابق فیس بک ایپ ڈیوائسز میں پہلے سے انسٹال ہوگی اور اسے ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکے گا اور صارف زیادہ سے زیادہ اسے disable کر سکے گا۔ یہ تو نہیں معلوم کہ کمپنیوں کے ساتھ کتنے معاہدے ہوئے ہیں، لیکن متاثرہ ڈیوائسز میں سام سنگ گلیکسی S8 شامل ہے۔

اسمارٹ فونز پر پہلے سے انسٹال شدہ مستقل ایپس، جنہیں bloatware یا crapware کے نام سے جانا جاتا ہے، اینڈرائیڈ فونز کا عام حصہ ہیں، عموماً یہ ڈیوائس بنانے والا ادارہ شامل کرتا ہے۔

فیس بک نے ایسے کسی بھی معاہدے کے بارے میں بتانے سے انکار کیا ہے اور ان معاہدوں کی مالیاتی نوعیت کے بارے میں بھی معلومات نہیں دی۔ البتہ ایک ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدے اینڈرائیڈ صارفین کو فون کا "بہترین تجربہ" فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایپ disable کرنا ایسا ہی ہے جیسے اسے ڈیلیٹ کرنا، یعنی اس صورت میں یہ فیس بک کو ڈیٹا یا معلومات فراہم نہیں کر سکتی۔

فیس بک کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا کلیکٹ کرنے پر ویسے ہی عام تحفظات پائے جاتے ہیں۔ پرائیویسی انٹرنیشنل نامی ایک ادارے کی رپورٹ میں انکشاف بھی ہوا ہے کہ ادارہ ان اینڈرائیڈ صارفین کو بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا پایا گیا جو فیس بک اکاؤنٹ بھی نہیں رکھتے۔ ادارے کے مطابق 10 سے 500 ملین تک صارفین رکھنے والی 34 مقبول ترین اینڈرائیڈ ایپس میں سے 23 ایسی ہیں جو صارف کے استعمال پر ڈیٹا فیس بک کو بھیجتی ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ فیس بک صارفین کے علاوہ استعمال نہ کرنے والے بلکہ لاگ آؤٹ ہونے والے صارفین کو بھی ٹریک کرتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں