انرجی ڈرنکس کے جسم پر پڑنے والے بھیانک اثرات

Redbull ہو یا Sting یا کچھ اور، اگلی بار ان مشروبات کا ڈھکن کھولنے سے پہلے یہ ضرور جان لیں کہ یہ انرجی ڈرنکس آپ کے جسم پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں؟ یہ بات تو شاید آپ کو معلوم ہی ہوگی کہ یہ منفی اثرات ہیں۔ اس کے باوجود انرجی ڈرنک کی عالمی مارکیٹ بڑھتی چلی جا رہی ہے اور 2024ء تک یہ 72 ارب ڈالرز کی ہو جائے گی۔ یہ ان کمپنیوں کے لیے تو بہت اچھی خبر ہے لیکن صارفین کو کیا مل رہا ہے؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں:

تمام انرجی ڈرنکس میں توانائی فراہم کرنے کا جو بنیادی ذریعہ ہے وہ کیفین ہے۔ یہ پیشاب آور اثرات رکھتی ہے، یعنی اس سے پیشاب زیادہ آتا ہے یعنی یہ پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ ان افراد کے لیے تو زیادہ نقصان دہ  ہے کہ جو پہلی بار استعمال کر رہے ہوں اور انہیں معلوم نہ ہو کہ اضافی پانی کی بھی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک دن میں 400 ملی گرام سے زیادہ کیفین استعمال نہیں کرنی چاہیے، لیکن اداروں پر پابندی بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی مصنوعات پر کیفین کی مقدار لکھیں۔

پھر کیفین دل کی دھڑکن کی شرح بھی بڑھاتی ہے۔ کینیڈین جرنل آف کارڈیولوجی کے مطابق انہوں نے بالغ افراد میں انرجی ڈرنک پینے کے بعد دل کے مسائل کے واقعات بڑھتے ہوئے دیکھے ہیں۔ انہوں نے پایا کہ ان نو عمر افراد میں بھی انرجی ڈرنکس کی وجہ سے دل کے مسائل سامنے آئے ہیں کہ جو اصل میں ایسے کسی عارضے کا شکار تھے لیکن یہ ظاہر نہیں تھا۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ انرجی ڈرنکس ایسے نوجوانوں میں دل کی رفتار تبدیل ہونے کا باعث بنی ہیں جو صحت مند دل رکھتے ہیں۔ بچوں میں تو یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ کیفین کا زیادہ استعمال کم عمری میں ہی انہیں متاثر کر سکتا ہے۔

انرجی ڈرنکس میں سٹرک ایسڈ شامل ہوتے ہیں جو دانتوں کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ یہ مشروبات اسپورٹس ڈرنکس کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزابیت کے حامل ہیں اور دانتوں کی بالائی تہہ کو ختم کرنے کی کہیں زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر دانتوں کی بالائی حفاظتی تہہ ختم ہو جائے تو وہ دوبارہ جنم نہیں لیتی اور اس کے بعد دانتوں کی حساسیت او دیگر مسائل جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں۔

کہنے تو تو انہیں انرجی ڈرنکس کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سے اصل توانائی حاصل نہیں ہوتی۔ اصل توانائی چینی سے ملتی ہے لیکن زیادہ عرصے برقرار نہیں رہتی۔ زیادہ چینی کے استعمال کے خطرات سے تو سب واقف ہی ہیں تو جان رکھیں کہ ایک انرجی ڈرنک میں تقریباً 13 چمچے چینی ہوتی ہے جو عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے مقرر کردہ دن بھر کی مقدار 6 چمچوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یوں انرجی ڈرنکس کا استعمال وقت کے ساتھ ساتھ موٹاپے میں اضافے، دل کے امراض اور بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

انرجی ڈرنکس ہمارے اعصابی نظام کو تحریک دیتی ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسم اور دماغ میں نئی توانائی آ گئی ہے۔ لیکن یہ مشروبات سر درد، نیند کے خاتمے، اعصابی تناؤ اور رویّوں میں تیزی سے تبدیلی کی وجوہات بھی بن سکتے ہیں اور یوں دل اور ہاضمے کے مسائل کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی کی صلاحیت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں