ان پھلوں سبزیوں و پھلوں کی باقیات کو ہرگز نہ پھینکیں

اگر آپ اب بھی پھل اور سبزیاں کاٹنے کے بعد ان کے چھلکے وغیرہ کوڑے کی نذر کر دیتے ہیں تو آپ نہ صرف اپنا قیمتی روپیہ ضائع کر رہے ہیں بلکہ بہت اہم غذائیت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ عام استعمال کی وہ کون سی سبزیاں اور پھل ہیں کہ جن کے چھلکے اور دیگر حصے کام میں لائے جا سکتے ہیں۔

لیموں

چاہے آپ نہاری کھا رہے ہوں یا کوئی مشروب بنا رہے ہوں، دونوں صورتوں میں عموماً لیموں کا رس نچوڑ کر اسے پھینک دیا جاتا ہے حالانکہ غذائی ماہرین کے مطابق لیموں کا چھلکا بہت فائدہ مند ہے اور اس میں کئی غذائی فوائد چھپے ہوئے ہیں۔ لیموں کے چھلکوں میں رس سے کہیں زیادہ وٹامن سی پایا جاتا ہے اور یہی نہیں بلکہ وٹامن بی6، بی5، وٹامن اے، کیلشیئم، آئرن، پوٹاشیم، زنک اور میگنیشیئم جیسے اہم اجزاء بھی چھلکے میں ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لیموں کے چھلکوں کو عام طور پر کھانے سجانے اور ان کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ بریانی اور اچار میں تو اسے کاٹ کر اسے چھلکوں سمیت ہی ڈالا جاتا ہے۔ لیموں ہی نہیں بلکہ نارنجی اور اسی طرح کے دوسرے پھلوں کے چھلکے بھی ایسے ہی فوائد رکھتے ہیں۔


کیلے

جس پھل کا چھلکا سب سے زیادہ اور ضائع کیا جاتا ہے، وہ بلاشبہ کیلا ہے۔ اس کے چھلکوں کو تو کوئی لفٹ ہی نہیں کرواتا، حالانکہ غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ کیلے میں tryptophan ہوتا ہے جو ہمارے دماغ میں موجود خوشی کے ہارمونز serotonin کو بڑھاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیلے کے چھلکوں کو کیسے استعمال کریں؟ ایک آسان طریقہ ہے پکے ہوئے کیلے کو چھلکے لیں اور انہیں کم از کم 10 منٹ تک پکائیں یا ابالیں۔ پھر ان کو ملک شیک یا سوپ میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا پھر کیک وغیرہ بنانے میں بھی۔ ایک مزیدار طریقہ یہ بھی ہے کہ کیلوں کو چھلکوں سمیت کاٹیں اور انہیں بیک کرلیں۔ پھر ذائقہ بتائیے گا کیسا لگا؟


تربوز

تربوز کے چھلکے بھی عموماً کوڑے کا ڈھیر بن جاتے ہیں  جبکہ ماہرین کے مطابق ان چھلکوں کو پھینکنے کے بجائے لال حصے کے ساتھ موجود سفید حصوں کو کاٹ لیا جائے تو اسے کھانے پکانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ حصہ ایک امینو ایسڈ citrulline سے بھرپور ہوتا ہے جو بعد ازاں arginine میں تبدیل ہو جاتا ہے اور یوں خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے، دل کی صحت، قوت مدافعت بڑھانے اور پٹھوں میں تناؤ ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تربوز کے چھلکوں کو ملک شیک میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے یا پھر انہیں کاٹ کر سلاد، چٹنی وغیرہ میں ملالیں، آلو اور گاجر کے ساتھ ملا کر سوپ میں استعمال کریں یا پھر اچار میں شامل کریں، ہر لحاظ سے یہ بہت عمدہ اور فائدہ مند چیز ہے۔

تربوز کے بیج بھی بہت خوب ہیں، ان کو زیتون کے تیل اور نمک کے ساتھ بھونیں اور سلاد پر ڈال کر استعمال کریں۔


انناس

انناس کا درمیانی حصہ بھی عموماً کوڑے کا ڈھیر بن جاتا ہے حالانکہ یہ وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے اور کئی جگہ استعمال ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں bromelain  شامل ہوتا ہے جو ناک اور سانس کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جوڑوں اور پٹھوں کی سوجن و تکلیف میں آرام دیتا ہے۔ اسے سلاد و چٹنی میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ملک شیک میں بھی یا پھر اسے پانی، چائے وغیرہ میں ڈال کر اس کا ذائقہ بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انناس کے درمیانی حصوں کو کاٹ کرفریز بھی کر لیں تاکہ بعد میں استعمال کر سکیں۔


پیاز

کیا آپ جانتے ہیں کہ پیاز کے چھلکے بلڈ پریشر کو کم کرنے، دل کی شریانوں کو صاف کرنے اور سوزش کو کم کرنے کے کام آتے ہیں؟ یعنی یہ دل کے لیے بہترین چیز ہے۔  تو ہم انہیں آخر پھینک کیوں دیتے ہیں؟ ماہرین کہتے ہیں کہ سوپ وغیرہ میں پوری پیاز ڈالا کریں اور بعد میں کھانے سے پہلے چھلکا اتار لیں۔ یوں چھلکے کے فوائد بھی حاصل کریں۔


چقندر

چقندر کے پتّے بھی بہت کارآمد ہوتے ہیں جن میں وٹامن اے، سی اور کے بخوبی پائے جاتے ہیں اور ان میں موجود phytonutrient  نظر کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔سلاد وغیرہ میں دیگر سبزیوں کے ساتھ ان پتّوں کا بھی استعمال کریں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں