سپاہی جس نے ہتھیار نہ ڈالے، 27 سال تک جنگل میں چھپا رہا

سوئچی یوکوئی کی عمر 26 سال تھی جب وہ 1941ء میں جاپانی فوج میں بھرتی ہوا۔ اس وقت فوجیوں کو سکھایا گیا تھا کہ ہتھیار ڈالنا کسی بھی سپاہی کے لیے بدترین لمحہ ہوتا ہے اس لیے جب امریکی افواج نے 1944ء میں جاپان کے جزیرے گوام پر قبضہ کیا تو یوکوئی جنگل کی طرف بھاگ گئے۔ انہوں نے ایک آبشار کے قریب غار بنائی، اسے بانس اور سرکنڈوں سے چھپایا اور چھوٹے موٹے جانوروں کا شکارکرکے زندگی گزارنے لگے۔ جب 24 جنوری 1972ء کو دو شکاریوں نے انہیں دریا کے قریب پایا تو سوئچی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ جنگ تو دہائیوں پہلے ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے شکاریوں پر حملہ تو کیا لیکن ان پر قابو نہیں پا سکے، پکڑے گئے اور حکام کے حوالے کردیے گئے جہاں انہوں نے اپنی حیران کن داستان سنائی۔

یوکوئی کو 1941ء میں فوج میں شامل ہونے کے بعد گوام بھیجا گیا تھا جو اس وقت جاپان کے قبضے میں تھا۔ امریکی حملے کے دوران وہ جنگی قیدی بننے سے بچنے کے لیے متعدد سپاہیوں کے ساتھ جنگل میں چھپ گئے تھے۔ 27 سال تک وہ جنگل میں زندگی بچانے کی جدوجہد کرتے رہے۔ اس دوران مینڈک، چوہے اور بام کے ساتھ ساتھ پھل کھا کر گزارہ کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دریافت ہونے سے آٹھ سال قبل انہوں نے اپنے دو ساتھیوں کو دفنایا بھی تھا۔

یوکوئی فروری 1972ء میں ٹوکیو پہنچے جہاں تقریباً 5 ہزار افراد نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر  بہت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔

گو کہ ملنے کے فوراً بعد انہیں گوام سے جاپان منتقل کر دیا گیا تھا لیکن اپنی بقیہ زندگی میں وہ بارہا گوام گئے جن میں ہنی مون بھی شامل تھا۔ یوکوئی کے بقول انہیں جاپان میں نئی زندگی گزارنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ جنگ سے پہلے ایک درزی تھے۔

یوکوئی نے 22 ستمبر 1997ء کو 82 سال کی عمر میں ناگویا، جاپان میں وفات پائی حالانکہ انہیں 1955ء میں سرکاری طور پر مردہ قرار دیا گیا تھا۔ ان کی قبر پر وہی تختی لگائی گئی جو 1955ء میں ان کی والدہ نےتیار کروائی تھی۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں