واٹس ایپ کی سب سے بڑی تبدیلی، صارفین ناخوش

واٹس ایپ دنیا کی مقبول ترین ایپس میں سے ایک ہے۔ فروری 2014ء میں اسے فیس بک نے خرید لیا تھا اور اب تک یہ خود مختار حیثیت سے اپنا اکم کر رہی ہے۔ لیکن  اب فیس بک منصوبہ بنا رہا ہے کہ وہ واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک میسنجر کو یکجا کردے۔ گو کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ تینوں ایپس تنہا حیثیت میں بھی کام کرتی رہیں گی، لیکن یہ فیصلہ بظاہر دونوں سرو‎سز کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے ہے۔

یہ فیس بک کے ان وعدوں سے انحراف لگتا ہے کہ جو اس نے واٹس ایپ اور انسٹاگرام خریدتے ہوئے کیے تھے کہ یہ دونوں ایپس الگ حیثیت میں کام کرتی رہیں گی۔

رواں سال کے اختتام پر یا 2020ء کے اوائل میں منصوبے کی تکمیل کے بعد صارف فیس بک میسنجر کے کسی بھی صارف کو واٹس ایپ کے ذریعے پیغام بھیج سکے گا۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ میسیجنگ کے تجربے کو بہترین بنانا چاہتا ہے اور صارفین کی خواہش ہے کہ پیغام رسانی تیز، سادہ، قابل بھروسہ اور پرائیوٹ ہو۔

فی الحال اس خبر پر صارفین کا ردعمل اچھا نہیں ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ وہ ایسی تبدیلی آنے کے بعد واٹس ایپ کا استعمال چھوڑ دیں گے۔ کچھ تو انسٹاگرام بھی چھوڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں