دنیا کی طویل ترین کمرشل پرواز کے لیے ورزش کے سامان کا مطالبہ

آسٹریلیا کی ایئرلائن کنٹاس سڈنی اور لندن کے درمیان 20 گھنٹے کی نان-اسٹاپ پرواز شروع کرنا چاہ رہی ہے اور اس طویل سفر کے دوران مسافر مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں دورانِ پرواز ایکسرسائز بائیکس اور ورچوئل ریئلٹی کی سہولیات چاہئیں۔

کنٹاس دنیا کے اِس طویل ترین کمرشل روٹ کے لیے رواں سال ایئربس کے A350 یا بوئنگ کے 777X طیاروں کا آرڈر دے گی جبکہ سروس کا آغاز 2022ء میں متوقع ہے۔

پرتھ سے لندن کے لیے 17 گھنٹے کی طویل پرواز کرنےوالے صارفین سے کیے گئے سروے کے مطابق ان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت صحت کی ہے۔ مسافروں نے جو سہولیات تجویز کی ہیں وہ ہلکی پھلکی ورزش کے لیے جگہ، وائرلیس ہیڈسیٹس اور کیفے ہیں۔ پرتھ-لندن روٹ کا آغاز پچھلے سال ہوا تھا، جس میں سب سے زیادہ ترجیح مسافروں کی صحت کو دی جا رہی ہے۔ حریف ادارے سنگاپور ایئرلائنز نے اپنی سنگاپور-نیویارک پروازوں کے لیے بھی مختلف منصوبے پیش کر رکھے ہیں جن میں خصوصی خوراک  بھی شامل ہیں۔

ایئرلائن صارفین کی تجاویز کی بنیاد پر اپنے کیبن کو اس طرح ڈیزائن کروائے گی کہ وہ صارفین کے لیے بھی آرام دہ ہو اور ایئرلائن کے لیے بھی مالی لحاظ سے فائدہ مند ہو۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں