ہاشم آملا کے لیے خطرناک ترین باؤلر کون؟

اگست 2010ء میں پاکستان کرکٹ نے لارڈز کے میدان پر ذلت ہی نہیں کمائی بلکہ اپنے ایک بہترین باؤلر سے بھی محروم ہو گیا۔ پے در پے تنازعات کا شکار ہونے والے محمد آصف اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد عوامی ہمدردی سے بھی محروم ہوگئے لیکن کرکٹ کی سمجھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کتنے بڑے باؤلر سے محروم ہو گئی ہے۔ جو نہیں جانتے ان کے لیے جنوبی افریقہ کے ہاشم آملا کا تازہ بیان ہی کافی ہے جن کا کہنا ہے کہ اپنے کیریئر میں جس باؤلر کا سامنا کرتے ہوئے انہیں سب سے زیادہ مشکل پیش آئی  وہ محمد آصف تھے۔

سپر اسپورٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنوبی افریقہ کے عظیم بیٹسمین نے کہا کہ آصف اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سے پابندی کا نشانہ بنے، تب ان فاسٹ باؤلرز سب سے بہتر تھے جن کا میں نے سامنا کیا۔ وہ بہت زیادہ تیز باؤلنگ نہیں کرتے تھے، یہی کوئی 135 کلومیٹر فی گھنٹہ لیکن ان کی لائن و لینتھ کمال کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے جنوبی افریقہ میں بھی آصف کا سامنا کیا اور پاکستان میں بھی۔ ان کی گیند پہلی اسٹمپ پر پڑتی تھی تو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ اندر کی طرف آئے گی یا باہر کی طرف نکلے گی۔ یہ بیٹسمین کے دفاع کا سخت ترین امتحان ہوتا تھا۔

ماضی میں انگلینڈ کے عظیم بیٹسمین کیون پیٹرسن اور جنوبی افریقہ ہی کے ابراہم ڈی ولیئرز بھی آصف کو بہترین باؤلر قرار دے چکے ہیں۔

محمد آصف نے 23 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی اور 106 وکٹیں حاصل کیں لیکن ان کا مختصر کیریئر 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے ساتھ ہی اپنے اختتام کو پہنچا۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں