خبردار! بچوں کا یہ نام رکھنے پر پابندی ہے

پچھلی ایک ڈیڑھ دہائی سے پاکستان میں ایک عجیب و غریب رحجان پیدا ہو گیا ہے، وہ ہے بچوں کے عجیب و غریب نام رکھنے کا۔ بتائیے کیا آپ اپنے بیٹے کا نام اتحاف، ادلال، احوص، تنویل، جودت، زبرج، محیص، مرداس یا غمام رکھیں گے؟  یا بیٹی کا نام اساوری، اثیلہ، انجشہ، حفالہ، قبیصہ، ضباعہ، لفیفہ یا خلیسہ؟ بلاشبہ ان ناموں کے مطلب اچھے ہوں گے لیکن کم از کم پاکستانی معاشرے میں تو ایسے ناموں پر پابندی ہی ہونی چاہیے کہ جہاں بچوں کو زندگی بھر کے لیے اپنے نام کی وضاحت اور ہجے بتانے کے لیے چھوڑ دیا جائے اور یہ نام کم اور بچے کے لیے مصیبت زیادہ بن جائے۔

دنیا کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں کہ جہاں چند نام پر پابندی ہے جیسا کہ امریکا میں مسیحا نام رکھنے پر پابندی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بچوں کے نام رکھنے کے قوانین کچھ مختلف ہیں۔ چند ریاستوں میں بچوں کا ایسا نام رکھنے پر سخت پابندی ہے کہ جو گالی ہو جبکہ کچھ میں نمبر والا نام نہیں رکھا جا سکتا۔ 2013ء میں ایک ریاست میں جج نے فیصلہ سناتے ہوئے ایک بچے کا نام مسیحا رکھنے سے روک دیا تھا کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق مسیحا کا نام صرف عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لگ سکتا ہے۔

ہمیں پتہ ہے آپ کو بھی چاکلیٹ اسپریڈ Nutella بہت پسند ہے لیکن فرانس میں کسی بجے کا نام نیوٹیلا رکھنے پر پابندی ہے۔ ایک جوڑے نے اپنی بیٹی کا نام نیوٹیلا رکھا، اِس امید پر کہ وہ بھی ایسی ہی میٹھی اور مشہور ہوگی لیکن عدالت نے کہا کہ یہ نام بچے کا مذاق اڑوانے کے مترادف ہے۔ عدالت کے حکم پر والدین نے بچی کا نام بدل کر ایلا رکھ دیا۔اگر یہی جج صاحب پاکستان میں ہوتے تو شاید نئی نسل کے آدھے نام تو ردّی کی ٹوکری میں جاتے۔

میکسیکو کی ایک ریاست میں ان ناموں کی طویل فہرست ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کے لیے منتخب نہیں کر سکتے۔ 2014ء میں ان ناموں کی تعداد 61 تھی کہ جو حکومت کے خیال میں اس لیے نہیں رکھنے چاہئیں کہ ان سے بچے کا مذاق اڑایا جائے گا۔ فہرست میں روبوکوپ، فیس بک اور بیٹ مین کا نام بھی شامل ہے۔ ہے نا حیران کن؟

برطانیہ میں ایک خاتون نے اپنی بچی کا نام سائنائیڈ رکھا، جی ہاں! دنیا کے خطرناک ترین زہر پر تو عدالت میدان میں آ گئی اور بچی کا نام تبدیل کروا دیا۔ لیکن سوئیڈن میں تو ایک جوڑے نے حد ہی کردی۔ انہوں نے اپنے بچے کا نام رکھا Brfxxccxxmnpcccclllmmnprxvclmnckssqlbb11116۔ یا خدا! یہ کس طرح کا نام ہے؟ دراصل انہوں نے ملک میں نام رکھنے کے سخت قوانین کے خلاف احتجاجاً اپنے بچے کا نام یہ رکھا۔ نجانے وہ اس "مظاہرے" سے کیا حاصل کرنا چاہ رہے تھے؟ بہرحال، حکومت نے مداخلت کی اور بچے کا نام تبدیل کروایا۔

چین میں ایک جوڑے نے اپنے بچے کا نام @ رکھا۔ چین میں اس علامت کو "آئی تا" کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے "اسے پیار کریں"۔ اب مطلب تو اچھا ہے لیکن چین میں ناموں میں کسی بھی علامت کے استعمال پر پابندی  ہے اس لیے نام بدل دیا گیا۔

نیوزی لینڈ میں ایک جوڑے نے بچے کا نام "." رکھا اور اگر انہیں اجازت دے دی جاتی تو آج بچہ "فل اسٹاپ" کے نام سے مشہور ہوتا لیکن حکومت نے اس نام کو مسترد کردیا اور اسے اُن ناموں میں شامل کردیا جن کے رکھنے پر پابندی ہے۔

ڈنمارک میں معاملہ اُلٹا ہے۔ یہاں پر ان ناموں کی فہرست نہیں ہے کہ جن پر پابندی عائد ہے بلکہ سرکاری سطح پر ان ناموں کی فہرست موجود ہے کہ جن میں سے نام کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔ اگر آپ ڈنمارک میں رہتے ہیں اور بچے کا رکھا گیا نام فہرست میں موجود نہیں تو آپ کو حکومتی عہدیدار سے منظوری لینا پڑے گی۔ ایک جوڑے نے اپنے بچے کا نام "منکی" رکھ دیا جو بلاشبہ فہرست میں موجود نہیں تھا اور یہ نام رکھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

مسلم اکثریتی ملک مراکش میں نام کا "مقامی شناخت" کا حامل ہونا ضروری ہے اس لیے "سارہ" نام رکھنے پر پابندی ہے۔ اب "سارہ" جیسے عام نام میں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ حیران نہ ہوں، دراصل حرف "ہ" کے ساتھ سارہ لکھنا اس کے یہودی ہجے ہیں۔ عربی نام "سارا" ہے جو قانونی طور پر رکھا جا سکتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں