شراب اور سؤر کا گوشت چھوڑنے سے کینسر کا خطرہ کہیں گھٹ جاتا ہے، تحقیق

سؤر کا گوشت اور شراب چھوڑ دینے سے کینسر کے خطرے میں 40 فیصد کمی آ جاتی ہے۔ یہ بات کینسر سے بچنے کے لیے کی گئی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

کئی دہائیوں بعد میں پہلی بار اپڈیٹ کی جانے والی ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ (WCRF) کی رہنما ہدایات کے مطابق سؤر کے گوشت اور شراب کی معمولی مقدار بھی متعدد کینسرز کے خطرے سے دوچار کر دیتی ہے۔

اس مؤقر عالمی اتھارٹی نے کینسر کے خطرے کو 40 فیصد تک کم کرنے کے لیے ایک 10 نکاتی منصوبہ جاری کیا ہے۔ یہ تحقیق 5 کروڑ سے زیادہ افراد پر کی گئی ہے جس میں سب سے نمایاں حصہ موٹاپے سے بچاؤ کا ہے جو تمباکو نوشی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کینسر کا سب سے بڑا سبب  بن سکتی ہے۔  

اب ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ زیادہ وزن ہونا کینسر کی کم از کم 12 اقسام کے ہونے کا سبب ہے جو 2007ء میں آخری بار WCRF کی شائع کردہ تحقیق سے پانچ اقسام زیادہ ہیں۔ اپنی نوعیت اس تیسری رپورٹ کے نتائج ویانا، آسٹریا میں موٹاپے پر ہونے والی یورپی کانگریس میں پیش کیے جائیں گے۔ ان کینسرز میں جگر، رحم، پروسٹیٹ، معدے، منہ اور حلق، آنتوں، چھاتی، پتّے، گردے، غذائی نالی اور لبلبے کے سرطان شامل ہیں۔

رپورٹ میں پہلی بار سافٹ ڈرنکس کے استعمال کو محدود کرنے کی سفارش بھی شامل ہیں جس میں عوام سے زیادہ تر پانی اور ایسے مشروبات پینے کا کہا گیا ہے، جو میٹھے نہ ہوں۔ ساتھ ہی پروسیس شدہ خوراک کے استعمال کو بھی محدود کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ لوگوں کو فاسٹ فوڈ اور مرغن، نشاستے دار اور میٹھے کھانوں کا استعمال گھٹانا چاہیے۔

2035ء تک کینسر کے نئے کیسز کی تعداد میں 58 فیصد اضافے کے ساتھ 24 ملین تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کا سبب رپورٹ کے مطابق "مغربی" طرزِ زندگی کا پھیلاؤ ہے۔

رپورٹ کہتی ہے کہ مناسب خوراک، غذائیت اور جسمانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ تمباکو کا عدم استعمال اور صحت مندانہ وزن برقرار رکھنا کینسر کے خطرے کی کمی کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن جسمانی سرگرمی میں کمی اور موٹاپے میں اضافے نے کینسر کی شرح کو یکدم بڑھا دیا ہے۔ اگر موجودہ رحجان جاری رہا تو جلد ہی موٹاپا تمباکو نوشی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کینسر کا سب سے بڑا سبب بن جائے کا۔

سرخ گوشت بالخصوص پروسیس شدہ گوشت کے استعمال میں کمی اور اناج، سبزیاں، پھل اور مختلف اقسام کی پھلیاں استعمال کرنا کینسر سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے جبکہ ساتھ ہی ماؤں کو بچوں کو اپنا دودھ پلانے کی ہدایت کی  گئی ہے کیونکہ اس سے چھاتی کے سرطان کو گھٹانے میں مدد ملتی ہے۔ رپورٹ میں شراب کے استعمال کو بھی گھٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں