کیا آپ کو فون کی لت لگ گئی ہے؟ ان علامات سے پہچانیں

اسمارٹ فون اس دور کی بڑی ایجادات میں سے ایک ہے بلکہ اسے انقلاب کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ آج سے دس سال پہلے ہماری زندگی کس ڈگر پر تھی اور آج کیسی ہو گئی ہے؟ خود سوچیں اور اندازہ لگائیں کہ یہ چھوٹا سا آلہ ہماری زندگیوں میں کتنی تبدیلیاں لایا ہے۔ لیکن ہر چیز کا ایک حد تک استعمال ہی فائدہ مند ہوتا ہے اور جہاں حدیں پار ہوئیں، وہاں نقصانات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ فون کے حد سے زیادہ استعمال نے بھی ہمیں نت نئے مسائل سے دوچار کیا ہے۔کیا آپ بھی فون کی لت میں مبتلا ہیں؟ کیا فون آپ کی زندگی میں حد سے زیادہ داخل ہو چکا ہے؟ جاننے کے لیے یہ تحریر پڑھیں۔

فون کی لت میں مبتلا ہونے کی پہلی علامت یہ ہے کہ آپ کسی چھوٹے موٹے کام کے لیے فون اٹھائے اور پھر بھول جائیں جیسا کہ آپ نے صرف وقت دیکھنے کے لیے فون جیب سے نکالا اور بجائے وقت دیکھ کر واپس رکھنے کے کسی ایپ میں گھس گئے اور وقت برباد ہونا شروع! ہمیں فون پر نظریں جمائے رکھنے کی ایسی عادت ہو گئی ہے کہ ہم اس دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

دوسری علامت، آپ دفتر میں کوئی میٹنگ شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور اس  مختصر دورانیے میں میٹنگ ایجنڈے پر سوچنے، کچھ پوائنٹس نوٹ کرنے اور دفتری ساتھیوں کے ساتھ کوئی چھوٹی موٹی گفتگو کرنے کے بجائے آپ اپنا فون اٹھا لیتے ہیں۔ پھر وہ دنیا جہاں کے کام کہ جن سے آپ خود صرفِ نظر کرتے ہیں کرنا شروع جیسا کہ وہ ای میل جن کو آپ پہلے گھاس نہیں ڈالتے تھے، ایک اہم دفتری میٹنگ سے پہلے انہیں پڑھنے لگ جاتے ہیں۔ آپ کو یاد رکھنا ہے کہ ایسی صورت حال میں کس طرح فون کا استعمال ترک کرنا ہے۔ دوبدو گفتگو اس اعتماد کو بحال کرتی ہے جو ہم اسکرین کے استعمال میں کھو بیٹھتے ہیں۔

محض دفتر ہی نہیں بلکہ آپ گھر پر کھانے کی میز یا دسترخوان پر بھی فون لے کر بیٹھتے ہیں تو یہ علامت ہے کہ آپ کو فون کی لت لگ گئی ہے۔ یہاں تک کہ آپ استعمال نہ بھی کریں، لیکن سامنے رکھنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ آپ اہلِ خانہ کو وہ توجہ نہیں دے رہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ خود کو اسکرین سے دور رکھنے کی جتنی کوشش ہو سکتی ہے کریں، ورنہ آپ کے تعلقات میں دراڑیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

اگر آپ فون کے استعمال کا وقت محدود نہیں کرتے تو یہ بھی علامت ہے کہ فون آپ کے لیے نشہ بن گیا ہے۔ کسی کام کے لیے فون اٹھایا اور بعد میں پتہ چلا کہ آدھا گھنٹہ ٹوئٹر پر ضائع کر چکے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ اسکرین ٹائم محدود کرنے کے لیے ٹائمر لگائیں، تمام نوٹیفکیشن بند کریں ورنہ آپ کی ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی اور تخلیقی صلاحیت کو گھن لگ جائے گا۔

یہ بات تو ہر فون صارف کرتا ہے کہ اس کی فون کی بیٹری اتنی طاقتور نہیں اور ایک دن کے استعمال میں ہی آدھی سے زیادہ ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اس بات کا ایک دوسرا مطلب ہے کہ آپ فون پر زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ فون جتنے وقت میں استعمال کے لیے بنایا گیا ہے ہم اس سے کہیں زیادہ وقت اسے دے رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کی بیٹری قبل از وقت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ فون کو اتنا ہی استعمال کریں، جتنا اس میں دم ہے اور چارجر یا پاور بینک ساتھ لے کر چلنے کی حرکت سے اجتناب کریں۔

اب تو ایسے لوگ عام ہو گئے ہیں کہ جن کے فون کی بیٹری 20 فیصد سے کم ہو جائے تو انہیں دورے پڑنے لگتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ کسی غیر آبادی سمندری جزیرے پر تنہا رہ گئے ہیں۔ اس کیفیت سے باہر نکلیں، کوشش کریں کہ فون کی بیٹری کم ہوتے ہی چارجر کی طرف دوڑ نہ لگائیں یا پھر کسی سے مانگتے نہ پھریں بلکہ شکر ادا کریں کہ آپ کو کچھ وقت اسکرین سے دُور رہنے کا موقع مل گیا۔

بار بار نوٹیفکیشن دیکھنا بھی ایسی ہی ایک علامت ہے۔ فون نہ بھی بجے تو چند مند بعد لوگ اسے دیکھتے ضرور ہیں کہ کہیں کوئی نوٹیفکیشن تو نہیں آیا ہوا بلکہ کچھ لوگ تو تمام حدیں پار کر جاتے ہیں کہ دورانِ ڈرائیونگ بھی فون کا استعمال کرتے ہیں۔ یاد رکھیں ڈرائیونگ سیٹ پر آپ کو کسی صورت فون استعمال نہیں کرنا، چاہے گاڑی سگنل پر رکی ہوئی کیوں نہ ہو۔ کال کرنے والا کچھ دیر انتظار کر سکتا ہے بجائے اس کے کہ آپ اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈال کر اس سے بات کریں۔

فون نے آپ کو اپنے شکنجے میں کس لیا ہے، اس کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آپ اپنی زندگی کو سوشل میڈیا کے پیمانوں پر تولنے لگ جائیں۔ اپنی پسندیدہ آئس کریم کو کھانے کے بجائے پہلے دس زاویوں سے اس کی تصاویر لے کر انسٹاگرام پر ڈالنے کو ترجیح دیں تو پھر کہنے کو کچھ نہیں رہ جاتا۔ اپنے بہترین لمحات اور بہترین افراد یعنی خاندان کو اولیت دیں، وہ انسٹاگرام سے زیادہ اہم ہیں۔

اگر آپ صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے فون اسکرین دیکھتے ہیں اور رات کو سوتے ہوئے بھی فون استعمال کرتے کرتے نیند کی وادیوں میں کھو جاتے ہیں تو سمجھ لیں آپ فون کی لت میں بری طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔ یا پھر چلتے پھرتے آپ کا فون بیگ یا جیب کے بجائے ہاتھ میں ہو تو بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ ہم نے تو بیت الخلاء میں بھی لوگوں کو فون لے جاتے دیکھا ہے یعنی کہ فراغت کے وقت بھی لوگ فارغ نہیں اور اسکرین چھوڑنے پر راضی نہیں۔

ان میں سے کتنی علامات آپ میں پائی جاتی ہیں؟ اگر چند بھی ہیں تو ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں، آپ زندگی کا بھرپور لطف پائیں گے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں