ہمالیہ کے عظیم گلیشیرز بھی خطرے کی زد میں

زمین پر عالمی حدّت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے بحر منجمد شمالی اور دنیا میں سب سے بڑے برفانی علاقے بحر منجمد جنوبی میں تیزی سے پگھلتی ہوئی برف تو سائنس دانوں کی نظروں میں ہے ہی لیکن شمالی و جنوبی قطب کے علاوہ ایک تیسرے قطبی علاقے میں بھی گلیشیرز کا پگھلاؤ خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے، یہ ہے ہمالیہ و ہندو کش کا علاقہ، افغانستان و پاکستان سے لے کر برما تک پھیلا ہوا کہ جہاں کرۂ ارض کی برف کا تیسرا سب سے بڑا ذخیرہ موجودہ ہے جو کروڑ ہا افراد کو پانی فراہم کرتا ہے۔

210 سائنس دانوں نے تحقیق کے بعد ہمالیہ کے دامن میں گلیشیرز کے ڈرامائی پگھلاؤ پر رپورٹ تیار کی ہے۔ نیپال میں قائم ایک تحقیقی ادارے ICIMOD کی یہ رپورٹ 638 صفحات پر مشتمل ہے جس کے مطابق بہت زیادہ برف کے پگھلنے کا خدشہ موجود ہے۔ انتہائی خوش گمانی بھی اختیار کی جائے تو رپورٹ کے مطابق رواں صدی کے اختتام تک ایک تہائی برف کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن اگر حقائق کو مدنظر رکھیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف موجودہ کوششیں ناکام ہو جائیں تو ان گلیشیرز کا دو تہائی حصہ صفحہ ہستی سے مٹ سکتا ہے۔ اگر انسان عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے اندر تک محدود کرنے میں کامیاب ہو گیا، تب بھی رپورٹ کے مطابق ہمالیہ و ہندو کش کا علاقہ اپنے ہر تین میں سے ایک گلیشیر سے محروم ہو جائے گا۔ لیکن ایسا ہوتا نظر نہيں آتا کیونکہ سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والے چاروں ممالک چین، امریکا، بھارت اور یورپی یونین نے ایسی کوئی کوشش نہیں کہ جس سے اس خطرناک گیس کے اخراج میں کوئی کمی آئے۔

اگر عالمی حدت کو 2 درجہ سینٹی گریڈ تک بھی محدود گیا، جو موجودہ حالات میں خود ایک مشکل ہدف ہے، تب بھی موجودہ صدی کے اختتام تک ہندوکش و ہمالیہ خطے کے تقریباً نصف گلیشیرز کا خاتمہ ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ ہمالیہ و ہندوکش کے گلیشیرز سے مستفید ہونے والے علاقے میں دنیا کے گنجان آباد ترین ممالک آتے ہیں جیسا کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور چین کہ جن کی کل آبادی تین ارب سے بھی زیادہ ہے یعنی دنیا کی نصف آبادی کے لگ بھگ۔ یہاں کوئی بھی ماحولیاتی حادثہ کسی عظیم انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں