ہوشیار! گوگل نے کئی اینڈرائیڈ ایپس پر پابندی لگا دی

گوگل نے ایسی کئی مشہور فوٹو ایپس پر پابندی لگا دی ہے جو دراصل صارفین کے لیے خطرناک تھیں۔

سکیورٹی ادارے ٹرینڈ مائیکرو نے 29 ایسی خطرناک ایپس کا پتہ چلایا کہ جو گوگل کے پلے اسٹور پر موجود تھیں، اور خود کو "بیوٹی کیمرا" ایپلی کیشن قرار دیتی تھیں۔ یہ ایپس اب گوگل نے نکال دی ہیں۔

یہ فوٹوایپس کیمرا انسٹال ہونے کے بعد اینڈرائیڈ فونز میں مختلف سرگرمیاں کرتی تھیں جیسا کہ کچھ ایپس صارف کی جانب سے فون ان لاک کرتے ہی اسے فراڈ اور فحش ویب سائٹس کے اشتہار دکھاتی تھیں۔ دیگر ایپس صارفین کی ذاتی معلومات چرانے کے لیے انہیں گھٹیا ویب سائٹس پر لے جاتی تھیں۔ کبھی کبھار ایک انعام کا لالچ دے کر صارف کے ای میل یا فون نمبر کو چرانے کی کوشش کی جاتی تھی۔

ٹرینڈ مائیکرو نے نشاندہی کی کہ تکنیکی طور پر قانونی مواد کی بھی اس طرح تشہیر جعل سازی ہے۔ کچھ ایپس ایسی بھی تھیں کہ جو صارفین کی تصاویر کو 'خوبصورت' بنانے کے بہانے ان کی تصاویر چوری کر رہی تھیں۔ ایسی ایک ایپ صارف کی تصاویر کو ایک پرائیوٹ سرور پر محفوظ کرتی تھیں اور پھر بجائے تصویر کا فلٹر شدہ ورژن پیش کرنے کے صارف کو جعلی پیغام دیا جاتا تھا کہ اسے ایپ اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھا جار ہا ہے کہ یہ جعلی تصاویر دراصل سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہوں گی۔

ایسی کُل 29 ایپس گوگل پلے اسٹور پر 40 لاکھ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤنلوڈ ہوئی جبکہ تین تو ایسی تھیں کہ جو 30 لاکھ سے زیادہ بار ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوگل پلے اسٹور پر گھٹیا ایپس کتنے بڑےپیمانے پر پھیل چکی ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں