اپنے بزرگوں سے یہ سوالات ضرور پوچھیں

آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ آپ کے بزرگ یعنی دادا، دادی،نانا، نانی وغیرہ نے اپنے زمانے میں کتنی بھرپور زندگی گزاری ہے؟ دراصل ان کی زندگی میں آپ کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ سیکھنے کے لیے تیار ہوں۔ افسوس کا مقام ہے کہ نوجوان نسل اور بزرگوں کو بہت کم وقت دیتی ہے۔ اُن کا یہ طرز عمل ہماری مذہبی و ثقافتی اقدار کے برعکس تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی خود نوجوانوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے جنہیں عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو جلد از جلد سے ان یہ سوالات پوچھ لیں ورنہ عمر بھر کا پچھتاوا آپ کے ساتھ رہے گا۔

خاندانی کھانا

ہر خاندان میں، ننھیال اور ددھیال میں کسی مخصوص کھانے کو پکانے کی ایک خاص ترکیب ہوتی ہے۔ اپنی دادی یا نانی سے پوچھ کر دیکھ لیں کیونکہ اُن کے زمانے میں نہ بریانی بنانے کے لیے تیار شدہ مصالحے آتے تھے اور نہ ہی نہاری اور قورمے وغیرہ کے۔ ان کھانوں کو بنانے کے لیے تقریباً ہر خاندان میں کچھ نہ کچھ مختلف ترکیب استعمال کی جاتی تھیں، کوئی ایک مصالحہ، کوئی ایک چیز ذرا تبدیل ہوتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ ہر گھرانے میں کھانوں کا ذائقہ تھوڑا سا تبدیل ہوتا تھا۔ اس لیے اگر آپ کی دادی کی بنائی گئی کوئی خاص ڈش بہت مقبول ہے تو جلد از جلد اسے نوٹ کرکے رکھ لیں تاکہ آپ اس خاندانی ہنر کو اپنی پوتیوں میں منتقل کر سکیں۔

بچپن

گزشتہ ایک صدی کے دوران دنیا میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ نئی نسل کی زندگی پہلے کے مقابلے میں بہت آسان ہے۔ دادا سے پوچھیں کہ وہ اسکول جانے کے لیے کتنے میل پیدل چلتے تھے؟ نانا آپ کو بتائیں گے کہ اپنی پہلی ملازمت کے لیے انہوں نے کتنی جدوجہد کی تھی؟ پھر آپ کے امی اور ابو اور اُن کے بہن بھائیوں کو پالنے کے لیے ان بزرگوں نے کن سخت مراحل کو طے کیا؟ یہ جدوجہد کی عظیم داستانیں ہیں جن سے آپ کو اپنی زندگی کے لیے بھی تحریک ملے گی۔

قومی خدمت

بدقسمتی سے انسان نے جتنی ترقی گزشتہ ایک صدی میں کی ہے، تاریخ کا دھارا پلٹ دینے بہت بڑے واقعات بھی اسی ایک صدی کے دوران پیش آئے۔ اپنے دادا سے پوچھیں کہ قیامِ پاکستان کے وقت اُن کی عمر کیا تھی اور تحریکِ آزادی کے دوران وہ کس طرح کا ماحول دیکھتے تھے؟ پھر پاکستان بننے کے بعد فسادات، 1965ء کی جنگ کے جوشیلے واقعات، 1971ء کی جنگ اور سقوطِ ڈھاکا کا صدمہ، آپ کو بزرگوں سے وہ معلومات ملیں گی جو شاید آپ کو نصابی کتب میں کبھی نہ ملیں۔ پھر اُن اہم ترین مواقع پر آپ کے بزرگوں کا کردار بھی ظاہر کرے گا کہ مشکل وقت میں عظیم لوگ کیا کرتے ہیں۔

نامکمل خواب

ہر شخص کی زندگی میں چند ایسے خواب ہوتے ہیں جو کبھی مکمل نہیں ہو پاتے۔ اپنے بزرگوں سے پوچھیں کہ انہوں نے اپنی اولادوں کی تعلیم و تربیت اور بہتر مستقبل کی خاطر اپنے کن کن خوابوں کی قربانی دی؟ آپ کے والدین اور پھر آپ کی زندگی کو بنانے کے لیے انہوں نے کون سے اہم اور مشکل ترین فیصلے کیے۔ گاؤں چھوڑ کر شہر آنے کا فیصلہ کتنا اہم اور مشکل تھا؟ نئے شہر میں ہجرت کے بعد کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ پھر سب سے بڑھ کر وہ کون سے خواب تھے کہ جن کے پورے نہ ہونے کا افسوس آج تک ہے، لیکن ساتھ ہی خوشی بھی کہ ان کی قربانی ایک عظیم مقصد کے لیے دی گئی یعنی اولاد کی تربیت کے لیے۔

چھوٹی چھوٹی یادیں

شادی کے موقع پر کون سے کپڑے سلوائے تھے؟ بعد میں پہلی بار کہاں گھومنے گئے تھے؟ سب سے پہلے کون سی فلم دیکھی تھی اور کون سی بہت زیادہ پسند آئی تھی؟ دادا اور نانا سے پوچھیں کہ انہیں دادی اور نانی کے ہاتھ سے بنا کون سا کھانا سب سے زیادہ پسند تھا؟ یادوں کے اس سمندر میں ان چھوٹی چھوٹی یادوں کو کھنگالتے ہوئے آپ کو بزرگوں کی آنکھوں میں ایک چمک نظر آئے گی۔

عیدیں شب براتیں

آجکل تو بدقسمتی سے نوجوانوں کی عیدیں سوتے ہوئے گزر جاتی ہیں لیکن چند دہائیوں پہلے عیدیں بالکل مختلف ہوا کرتی تھیں؟ والدین کے والدین سے پوچھیں کہ تب عید الفطر اور عید الاضحیٰ کیسے منائی جاتی تھیں؟ کس طرح ایک ہی تھان سے وہ سب بھائی ایک ہی رنگ اور انداز کے کپڑے سلوائے بلکہ خود سیے جاتے تھے؟ عید کی خریداریاں کیسے ہوتی تھیں؟ مہندی اور چوڑیوں کا انتظام کیسے ہوا کرتا تھا؟ نمازِ عید کے لیے پورا خاندان کس طرح مل کر عیدگاہ جایا کرتا تھا؟ شہر یا قصبے کی سب سے بڑی مسجد یا عیدگاہ میں جانے کے لیے کتنی تیاریاں کی جاتی تھیں؟ شیرخورمہ بنانے کو ساری رات کس طرح پکایا جاتا تھا؟ قربانی کے جانور کے انتخاب کے لیے کن مراحل سے گزرنا پڑتا تھا؟ پھر گاؤں میں عیدیں کیسے ہوتی تھیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ سوال کہ آج ان کی نظروں کے سامنے موجود یہی تہوار کتنے بدل گئے ہیں۔

ماضی و حال

ماضی کے مقابلے میں آپ کے بزرگ حال کو کیسا پاتے ہیں؟ ایک جدوجہد سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد کیا وہ اِس عمر میں آنے والے ٹھیراؤ سے مطمئن ہیں؟ اس سوال پر آپ کو بہت سی نصیحتیں سننے کو ملیں گی، نصف اور پون صدی کے تجربے کا نچوڑ نوجوانوں کے لیے بہت کارآمد ہوگا اگر وہ نصیحت کو اچھی طرح سنیں اور اس پر عمل بھی کریں۔

بڑے فیصلے

وہ اہم ترین لمحے جنہوں نے زندگی کو ایک نیا رُخ دیا یا پھر انہیں بدل کر رکھ دیا۔ ہر بزرگ کی زندگی میں کئی لمحات ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ بہت بڑا قدم اٹھاتے ہیں، ایسا قدم جو زندگی کا رخ ہی بدل دیتا ہے۔ وہ قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت جیسا بڑا واقعہ بھی ہو سکتا ہے یا کسی کی وفات کے بعد تبدیلی کا عمل بھی۔ ان کے ذریعے آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اور زندگی میں جب آپ کو ایسے ہی کسی مرحلے کا سامنا ہوگا تو آپ کےلیے فیصلہ کرنا آسان ہوگا۔

خوشگوار ترین لمحات

زندگی میں سکھ اور دکھ ایک ساتھ چلتے ہیں اور بلاشبہ کئی لمحات ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی یادیں مرتے دم تک ساتھ رہتی ہیں۔ اپنے بزرگوں سے پوچھیں کہ ان کی زندگی کے خوشگوار ترین لمحات کون سے تھے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کی پیدائش کے دن کو ہی یادگار ترین دن قرار دیں؟ یا پھر اپنی شادی یا آپ کے امی یا ابو کی پیدائش کے دن کو؟ اس کے علاوہ بھی بہت سارے دن ایسے ہو سکتے ہیں جن سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ زندگی میں کن لمحات کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

مجھ سے محبت کیوں؟

یہ بڑا اہم سوال ہے کیونکہ اس سے آپ رشتوں کی قدر جانیں گے۔ دادا، دادی یا نانا، نانی سے پوچھیں کہ آپ اُن کو کیوں پسند ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ جواب سے آپ کو اپنی زندگی کے کچھ ایسے پہلوؤں کے بارے میں کچھ ایسا سننے کو ملے جو آپ سے خود بھی پوشیدہ ہو۔

روایات و اقدار

اپنے بزرگوں کی اقدار کو سنبھالنے کے لیے ان سے یہ ضرور پوچھیں کہ وہ کون سی روایات ہیں جنہوں وہ آئندہ نسل میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں؟ عموماً کوئی مذہبی رسم ہوتی ہے جو بزرگوں کے خیال میں اُن کے خاندان میں ہمیشہ جاری رہنی چاہیے۔

دادا کے دادا

اپنے خاندان کی طویل تاریخ اور موجودہ زمانے میں اس کی باقیات ڈھونڈنے کے لیے آپ اپنے دادا یا نانا سے پوچھ سکتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بزرگوں کی کون سی یادیں ہیں؟ جو محبت آپ اپنے بزرگوں کے لیے دل میں پاتے ہیں وہی آپ کو ان کے اندر بھی اپنے دادا، دادی اور نانا، نانی کے لیے ملے گی۔ پھر ان بزرگوں کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی آپ کو حیران کریں گی کہ آج کے مقابلے میں وہ زمانہ کتنا مختلف تھا؟

آبا و اجداد

برصغیر دنیا جہاں کی قوموں کا مسکن رہا ہے، یہاں وسط ایشیا، ایران، عرب حتیٰ کہ افریقہ سے بھی آ کر لوگوں کی بڑی تعداد آباد ہوئی اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی۔ اپنی بزرگوں سے پوچھیں کہ ہمارے آبا و اجداد کہاں سے آئے تھے؟ شاید آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ نسل در نسل کس طرح ہجرتیں ہوئی ہیں اور وہ جو کبھی دہلی کی گلیوں میں کھیلا کرتے تھے، اب کراچی میں رہتے ہیں۔ پشاور میں بچپن گزارنے والوں اور کوئٹہ چمن کے باسیوں کے کاروبار بھی یہیں کراچی میں جم گئے ۔ جو کبھی کشمیر کی وادیوں میں مقیم تھے، اب لاہور میں ہوتے ہیں۔ بلکہ اگر خاندان کی مزید پرانی تاریخ میں جائے تو کوئی اصفہان سے ہوگا، کوئی بخارا و سمرقند سے، کوئی شیراز کا بسنے والا ہوگا تو بصرہ سے۔ یہ بڑے واقعات ہوتے ہیں جو اتنی بڑی تبدیلیاں لاتے ہی۔ قحط، جنگیں، سیاسی حالات اور سانحات جن کے بعد کسی لمحے پر ہمارے آبا و اجداد میں سے کسی ایک نے فیصلہ کیا ہوگا کسی بہتر مقام پر جانے کا اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنے موجودہ شہر میں ہیں۔

بہترین دوست

خون کے رشتے اپنی جگہ لیکن جو قربت دوستوں کے ساتھ ہوتی ہے وہ اب بھی کسی سے نہیں ہوتی۔ دادا، دادی اور نانا، نانی سے ان کے بچپن کے دوستوں کے بارے میں پوچھیں۔ خاندان میں سب سے زیادہ قربت کس کے ساتھ تھی؟ کس سے اہم مواقع پر مشورے لیتے تھے؟ بچپن میں کس کے ساتھ کھیلا کرتے تھے؟ کس دوست کے گھر کو اپنا گھر سمجھتے تھے؟ کس سے آپ کی دوستی اپنی بڑی کہ آپ کے پورے خاندان کا تعلق اس سے قائم ہو گیا؟ ان تمام سوالوں کے جوابات آپ کو دوستی اور زندگی کے باہمی تعلق کے بارے میں سمجھائیں گے۔

ایک انوکھا سوال

اپنے بزرگوں سے یہ سوال ضرور کریں کہ آپ کی وہ کون سی بات ہے جسے آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے آنے والی نسل، بلکہ ہمارے پوتے نواسے بھی یاد رکھیں۔ اس پر وہ آپ کو اپنی زندگی کا لب لباب دیں گے، اسے محفوظ کرلیں اور وقت آنے پر آنے والی نسل تک پہنچائیں۔

دوبارہ موقع ملے تو؟

زندگی کامیابی و ناکامی دونوں روپ دکھاتی ہے۔ انسان کی فیصلہ کرنے کی طاقت اپنی جگہ لیکن وہ نتائج سے لاعلم ہوتا ہے۔ بزرگوں سے پوچھیں کہ وہ کون سا فیصلہ ہے جو دوبارہ کرنے کا موقع ملے تو آپ کچھ اور کریں گے۔ ساتھ ہی تبدیل ہونے والے نتائج کے بارے میں بھی پوچھیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں