اپنی عورتوں کو خود بدصورت بنانے والا قبیلہ

یہ حیران کن تصاویر ایک ہندوستانی قبیلے کی باقی بچ جانے والی ان چند آخری خواتین کی ہیں کہ جن کی ناک اس لیے بند کردی گئی اور چہرے پر ٹیٹو بنا دیے گئے تاکہ وہ اتنی بدصورت ہو جائيں کہ دوسرے قبیلوں کے لوگ انہیں اغواء نہ کر لیں۔

اپاتانی قبیلے کے یہ لوگ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے ضلع سبانسری میں رہتے ہیں۔ اپنی زرعی مہارتوں اور اپنی تاریخ کو تحریری صورت نہ دینے کے لیے مشہور یہ قبیلہ اپنی تمام داستانیں زبانی یاد کرتا ہے اور یہ ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔

اپاتانی لوک کہانیوں کے مطابق ان کی خواتین علاقے میں اپنے حسن کی وجہ سے مشہور تھیں اور اسی لیے اردگرد کے قبیلے اکثر ان پر حملے کرتے رہتے تھے اور ان کی عورتیں اغواء کرلی جاتی تھیں۔ اپنی لڑکیوں کو بچانے کے لیے قبیلے کے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ تمام عورتوں، نوجوان ہوں یا بوڑھی، اپنے چہرے پر ٹیٹو بنوا لینے چاہئیں اور ان کی ناک کو بند کر دیا جائے گا۔

صدیاں گزر گئیں، اغواء کا خطرہ بھی کم ہوتا چلا گیا لیکن ناک بند کرنے اور چہرہ گدوانے کی یہ روایت برقرار رہی۔ جیسے ہی لڑکی جوانی میں قدم رکھتی ہے، اس کو اس عمل سے گزرنا پڑتا۔

دور دراز علاقے میں رہنے کی وجہ سے یہ قبیلہ اب بھی اپنی روایات اور مذہب پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہے۔ وہ سورج اور چاند کی پوجا کرتے ہیں۔

بھارتی حکومت نے 1970ء کی دہائی میں مبینہ طور پر اس عمل پر پابندی لگا دی تھی لیکن لگتا ہے کہ اس پر عملدرآمد کچھ خاص نہیں ہوا البتہ اس پابندی سے حوصلہ شکنی ضرور ہوئی۔

ایک اور وجہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ویسا قبائلی نظام موجود نہیں رہا اور اغواء جیسی وارداتیں بھی کم ہوگئیں، اس لیے نئی نسل اس بھیانک رسم سے بچ نکلی۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں