فاسٹ فوڈز کا استعمال موت کا سبب

برگر، پیزا، بسکٹ اور کیک کا بہت زیادہ استعمال آپ کی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے، ایک نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے۔

درمیانی عمر کے لگ بھگ 45 ہزار افراد پر کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دل کے امراض، کینسر اور دیگر بیماریوں سے ہونے والی اموات کا تعلق پروسس شدہ کھانوں سے ہے۔ ان میں چپس، سفید روٹی، تیار شدہ کھانے، ساسیج، میٹھے سیریلز اور سافٹ ڈرنکس شامل ہیں، دوسرے الفاظ میں ایسی مصنوعات جو صنعتی طریق کار سے بنتی ہیں۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس کی سوبورن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ان کھانوں کو استعمال کرنےمیں 10 فیصد اضافہ بھی اگلے آٹھ سالوں میں موت کے منہ میں چلے جانے کے خدشات کو 14 فیصد بڑھا دیتا ہے۔ اس سے پہلے ہونے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ چکنائی سے بھرپور اور فائبر سے خالی ایسے کھانے بلڈ پریشر میں اضافے اور کینسر کا سبب بنتے ہیں لیکن پہلی بار ایسے کھانوں کے استعمال اور اموات کے تعلق پر بات کی گئی ہے۔

کھانے پینے کی ایسی اشیاء کے اجزاء میں چکنائی اور شکر کا استعمال کافی ہوتا ہے اور قانونی حد کے اندر رہتے ہوئے بھی ان میں ایسی چیزیں شامل کی جاتی ہیں جو خطرناک ہیں جیسا کہ سوڈیم نائٹریٹ وغیرہ۔جبکہ میٹھا کرنے کے مصنوعی طریقے نظام انہضام میں گڑبڑ کرتے ہیں جو ٹائپ2 ذیابیطس اور دیگر امراض کا سبب ہیں اور یو ں قبل از وقت موت کا بھی۔ اگر بہت عرصے تک اور بڑی مقدار میں ایسے کھانے استعمال کیے جائیں تو اس سے مہلک بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

یہ نتائج JAMA انٹرنل میڈیسن میں شائع ہوئی ہیں اور 45 سے 64 سال کے 44,551 صحت مند فرانسیسی باشندوں کے سروے پر مبنی ہیں کہ جن کا 24 گھنٹے کھانے پینے کا ریکارڈ رکھا گیا۔ سروے کے مطابق کل کھانوں کا 29 فیصد فاسٹ فوڈ پر مشتمل ہے جو کہ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک سے 20 فیصد کم ہے کیونکہ برطانیہ میں ہر شخص کی خوراک کا تقریباً نصف حصہ فاسٹ فوڈ پر مشتمل ہے جو کسی بھی یورپی ملک سے زیادہ ہے۔ جرمنی میں 46 فیصد اور فرانس میں 14 فیصد خوراک پروسس شدہ ہوتی ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں