فون کی نیلی روشنی، آنکھوں کے لیے زہرِ قاتل

ہم اسکرینوں کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ جب ٹیلی وژن اور کمپیوٹر اسکرین سامنے نہ ہو تو فونز نکال لیتے ہیں، یہاں تک کہ جب قدرتی روشنی ختم ہو جائے یعنی رات ہو جائے تب بھی فون کا یہ استعمال جاری رہتا ہے یہاں تک کہ بستر پر بھی۔ یہ بات تو بڑے پیمانے پر تسلیم شدہ ہے کہ موبائل ڈیوائسز سے نکلنے والی روشنی بالخصوص نیلے رنگ کی روشنی ہمارے جسمانی نظام اور سونے کے طریقے کو خراب کر سکتی ہے بلکہ اب تو ڈاکٹرز خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ہمانی آنکھوں کو بری طرح نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ تحقیق گو کہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن سائنس دانوں کاکہنا ہے کہ کم از کم انہیں اس پر تو یقین ہے کہ لوگوں کو سونے سے پہلے اپنے ٹیبلٹ، فون اور کمپیوٹرز بند کر دینے چاہئیں۔

کمپیوٹر یا اسمارٹ فون اسکرین کے استعمال اور 'نیلی روشنی' کے انسانی صحت پر اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ نیلی روشن جسے High Energy Visible یا مختصراً HEV لائٹ بھی کہا جاتا ہے، ہمیں نظر آنے والی روشنیوں میں سے ایک ہے۔ ہمیں نظر آنے والی روشنی میں سرخ، نارنجی، پیلے، ہرے، نیلے، بنفشی اور جامنی رنگ شامل ہوتے ہیں۔ ان میں نیلی سے لے کرجامنی تک روشنیاں سب سے کم ویولینتھ کی حامل ہوتی ہیں اور ویولینتھ جتنی کم ہوگی، اس روشنی میں توانائی اتنی زیادہ ہوگی۔

گزشتہ سال امریکا کی یونیورسٹی آف ٹولیڈو کے سائنس دانوں نے پایا تھا کہ نیلی روشنی نظر کو متاثر کر سکتی ہے اور بینائی کے خاتمے کی رفتار کو بڑھا سکتی ہے۔ بہت زیادہ عرصے تک نیلی روشنی کے سامنے رہنے سے آنکھ کے حساس خلیات میں زہریلے مادّے جنم لیتے ہیں، جس سے ان خلیات کا اور بالآخر نظر کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔ سبز، پیلی یا سرخ روشنی سے ان خلیات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی اور صرف نیلی روشنی انہیں بری طرح متاثر کرتی ہے۔ خاص طور پر اندھیرے میں جب ہماری پتلی پھیل جاتی ہے، فونز سے نکلنے والی نیلی روشنی براہ راست ہماری آنکھ کے اندر تک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سر درد، تھکاوٹ، نظر میں دھندلاہٹ اور آنکھوں میں خشکی ہونے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ آنکھوں کی خشکی کا براہ راست تعلق اسکرین استعمال کرنے سے ہے کیونکہ اس دوران ہم آنکھیں کم جھپکاتے ہیں۔ ہم عموماً ایک منٹ میں 15 مرتبہ آنکھیں جھپکتے ہیں لیکن ڈیوائس استعمال کرتے ہوئے یہ رفتار نصف سے بھی کم رہ جاتی ہے۔

اس لیے بہتر یہی ہے کہ فون اور دیگر اسکرینوں کا استعمال کم سے کم کیا جائے، بالخصوص رات کے اوقات میں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں