جمبو جیٹ کے 50 سال مکمل، وہ جہاز جس نے فاصلے سمیٹ دیے

یہ 9 فروری 1969ء کی ایک صبح تھی جب پہلے جمبو جیٹ طیارے نے تجرباتی پرواز کے لیے رن وے پر دوڑ لگائی۔ پائلٹ جیک ویڈل نے گو کہ دوسری جنگ عظیم میں حصہ لے چکے تھے لیکن اس دیو ہیکل جہاز کے چار انجنوں کو چلانا ان کے لیے جنگ سے کہیں زیادہ اعصاب شکن تھا۔ یہ جہاز تھا بوئنگ 747 المعروف جمبو جیٹ، جس کی آمد کے ساتھ ہی ہوائی سفر کی دنیا ہی بدل کر رہ گئی۔ تقریباً 160 ٹن کا یہ ہوائی جہاز 54 ٹن وزن اٹھا کر تجرباتی پرواز کر رہا تھا۔

یہ جہاز 60 لاکھ پرزوں سے بنایا گیا تھا اور نتیجہ تھا 75 ہزار ٹیکنیکل ڈرائنگ کا اور 625 دن  وِنڈ ٹنل میں گزارنے کا، یعنی تجربات ہی بوئنگ کو کروڑوں ڈالرز میں پڑے اور پھر جو نتیجہ نکلا وہ کسی انقلاب سے کم نہ تھا۔ 200 ملین ڈالرز کی خطیر لاگت سے بنائی گئی فیکٹری، جس کی آج مالیت 1.3 ارب ڈالرز ہے، حجم کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی عمارت تھی۔

دسمبر 1965ء میں بوئنگ نے 'پین ایم' کے ساتھ 25 بوئنگ 747 طیاروں کا معاہدہ کیا تھا، حالانکہ جہاز ابھی تیار ہونا باقی تھا۔ اگر بوئنگ اس جہاز کو بنانے میں ناکام ہوتا تو یہ کمپنی کی ساکھ کے لیے تباہ کن تو ہوتا ہی ساتھ ہی بہت بڑی سرمایہ کاری کا نقصان بھی ہوتا۔ بوئنگ سرمایہ کاروں کے 2 ارب ڈالرز کا مقروض تھا، جن کی مالیت آج 14 ارب ڈالرز بنتی ہے۔ اگر جمبو جیٹ ناکام ہوتا تو بلاشبہ بوئنگ کمپنی کا خاتمہ ہو جاتا اور ساتھ ہی لاکھوں لوگوں کا روزگار بھی چلاجاتا۔

ویڈل نے انجن چلائے اور بریک چھوڑتے ہوئے پین فیلڈ کے شمالی حصے سے جہاز کو رن وے پر دوڑا دیا۔ جہاز پر نظریں جمائے لوگوں کی اب سانسیں بھی تھم چکی تھیں اور جب جہاز کی ناک آسمان کی طرف اٹھنا شروع ہوئی تو آنکھیں جھپکنا بھی بھول گئے۔ چند ہی سیکنڈوں بعد 150 میل فی گھنٹے کی رفتار سے جمبو جیٹ فضا کو چیرتا ہوا آسمان کی طرف محوِ پرواز ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کے بعد ہوا بازی کی دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔

بوئنگ کے 747 جمبو جیٹ نے پہلی کمرشل پرواز 21 جنوری 1970ء کو کی جب 336 مسافر پین ایم کے ہوائی جہاز کے ذریعے نیو یارک سے لندن پہنچے۔

جمبو جیٹ کی پہلی کمرشل پرواز لندن پہنچنے پر

نصف صدی قبل بوئنگ 747 کی پہلی پرواز سے لے کر اب تک یہ جہاز 3.5 ارب مسافروں اور اربوں ٹن کارگو کی نقل و حمل کا فریضہ انجام دے چکا ہے، جس میں خلائی شٹل تک شامل ہیں جو اسی جمبو جیٹ کی پشت پر امریکا کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک گئی۔

ناسا کی خلائی شٹل بوئنگ 747 کی پشت پر

جمبو جیٹ کسی بھی دوسرے جہاز سے زیادہ 600 مسافروں کو لے کر 8 ہزار میل تک کا سفر کر سکتا تھا، وہ بھی لگ بھگ آواز کی رفتار سے اور یوں فاصلے سمیٹ دیے۔

آج نصف صدی بعد جمبو جیٹ آہستہ آہستہ فضاؤں سے غائب ہو رہا ہے۔ 1969ء سے اب تک 1600 جمبو جیٹ بنائے گئے کہ جن میں سے اب صرف 500 اڑ رہے ہیں۔

بوئنگ کے جمبو کاسب سے بڑا صارف برٹش ایئرویز بھی اس وقت صرف 34 جمبو جیٹ چلاتا ہے اور 36 محفوظ کرلیے گئے ہیں۔ 2024ء تک یہ جمبو بھی ایئرلائن سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ ڈچ ایئرلائن KLM بھی ان کا آہستہ آہستہ خاتمہ کر رہی ہے جبکہ ایشیائی ایئرلائنز کیتھے پیسیفک اور سنگاپور ایئرلائنز صرف کارگو طیاروں کے طور پر بوئنگ 747 کا استعمال کر رہی ہے۔یہاں تک کہ پاکستان کی قومی ایئر لائن 'پی آئی اے' بھی اپنے تمام 14 بوئنگ 747 ریٹائر یا فروخت کر چکی ہے۔

پی آئی اے کا ایک بوئنگ 747 جمبو جیٹ طیارہ

جمبو جیٹ کے عہد کا خاتمہ تقریباً ہو چکا ہے اور اس کی وجہ جہاز کا نصف صدی پرانا ہونا نہيں بلکہ اس پر آنے والی اخراجات میں اضافہ ہے۔  عملی طور پر دیکھا جائے تو اب 400 مسافروں کو لے کر بحر اوقیانوس پار کرنا 2 انجن کے طیاروں پر بھی ممکن ہے اور اگر 600 مسافروں کے لے کر جمبو جیٹ کے چار انجنوں پر یہ سفر کیا جائے تو وہ کمپنی کو زیادہ سستا پڑتا ہے۔ پھر ماحولیاتی معاملات اور لینڈنگ کی فیس میں اضافے نے بھی بوئنگ 747 کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ایک جمبو جیٹ کو اتارنے کی لاگت ساڑھے 12 ہزار برطانوی پاؤنڈز ہے جبکہ بوئنگ 787، جو 300 مسافر اٹھا سکتا ہے، کے لیے صرف  ایک ہزار ڈالرز۔ ایک ایسے عہد میں جب مقابلہ بہت سخت ہے، کمپنیوں کے لیے دو 787 طیارے چلانا کہیں زیادہ آسان ہے بجائے اس کے کہ وہ جمبو جیٹ طیارہ چلائیں۔

50 سال فضاؤں میں گزارنے والے جمبو جیٹ کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اگلی نصف صدی تک بھی رہے گا، لیکن جب بھی اس نے آخری پرواز کی، اس کے ساتھ ہی یہ جہاز امر ہو جائے گا۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں