یہاں رہنے کی ہمت کون کرے گا؟

ہزاروں سالوں پر محیط اپنی تاریخ میں انسان زمین کے دور دراز ترین مقامات پر بھی بس گیا ہے، جن میں سے چند تو لاکھوں کروڑوں افراد کے مسکن بن گئے لیکن کچھ مقامات ایسے ہیں جن کو آج کے جدید دور میں بھی بہت کم انسانوں نے اپنا گھر بنایا ہے۔ دنیا میں کئی مقامات ایسے ہیں جنہیں ہم دور دراز نہ بھی کہیں تو تنہا ترین مقامات ضرور کہہ سکتے ہیں کہ جہاں کی آبادی نے کبھی اس جگہ کو نہیں چھوڑا اور آج بھی وہیں مقیم ہے۔ ان آبادیوں میں پہلا نام ہے بحر الکاہل کے جزیرے پامرسٹن کا۔

پامرسٹن جزیرہ، بحر الکاہل

شمال مشرقی نیوزی لینڈ سے 3200 کلومیٹر کے طویل فاصلے پر ایک چھوٹا سا جزیرہ پامرسٹن واقع ہے جہاں رہتے ہیں صرف 62 لوگ۔ یہ سب درحقیقت ایک ہی شخص کی اولاد ہیں۔ اس جزیرے کو 1774ء میں مشہور جہاز ران کیپٹن جیمز کُک نے دریافت کیا تھا۔ البتہ یہاں کے موجودہ تمام مکین ولیم مارسٹرز کی اولاد ہیں جو اس جزیرے پر مستقل رہائش اختیار کرنے والے پہلے شخص تھے جنہوں نے 1863ء میں ملکہ وکٹوریہ کی اجازت کے بعد اپنی اہلیہ اور ان کی دو کزنز کے ساتھ یہاں قدم رکھا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اہلیہ کی دونوں کزنز سے بھی شادی کرلی تھی اور ان تین بیویوں سے ہونے والی اولاد کی تعداد 23 تھی۔ 1899ء میں ولیم کا انتقال ہو گیا اور آج سوائے تین افراد کے اس جزیرے کے رہنے والے سب لوگ انہی کی اولاد ہیں۔ تنہائی اور سادگی اس جزیرے پر گزاری جانے والی زندگی کی دو خصوصیات ہیں۔ یہاں نہ دکانیں ہیں، نہ بینک، نہ مارکیٹیں، پیسہ صرف تب خرچ ہوتا ہے جب دوسرے جزیروں کے ساتھ کچھ خرید و فروخت کی جائے یا پھر جب بحری جہاز بیرونی دنیا سے سامان لے کر آتے ہیں۔ یہاں پینے کے پانی کی فراہمی کا کوئی نظام نہیں اس لیے بارشوں کے پانی کو جمع کرکے استعمال کیا جاتا ہے۔ بجلی دن میں صرف چھ گھنٹے آتی ہے البتہ ایک نیا ٹیلی فون اسٹیشن بنایا گیا ہے جس سے بیرونی دنیا سے رابطہ آسان ہو گیا ہے۔ پامرسٹن کے مکین سیاحوں کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کرتے ہیں اور جو مہمان آتے ہیں وہ انہی کے گھروں میں رہتے ہیں کیونکہ یہاں کوئی ہوٹل نہیں ہے۔  لیکن یاد رکھیں یہاں جانا آسان نہیں ہے، یہ کک آئی لینڈز کے دارالحکومت راروتونگا سے 500 کلومیٹر دور ہے جہاں سے کشتی کے ذریعے  دو دن میں پامرسٹن پہنچا جا سکتا ہے۔


سپائی گاؤں، ایریزونا، امریکا

اب آپ کو لیے چلتے ہیں امریکا میں جہاں ریاست ایریزونا کے مشہورِ زمانہ گرینڈ کینین (Grand Canyon) میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں، جس کا نام ہے سپائی۔ حالانکہ گرینڈ کینین  امریکا کے سب سے مشہور سیاحتی مقامات میں سےایک ہے کہ جس کے خوبصورت نظارے دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں افراد ایریزونا آتے ہیں، لیکن گزشتہ 800 سالوں سے یہاں رہنے والے ہواسپائی قبیلے کا ایک مسکن اسی علاقے میں واقع ہے جو ایک آبشار کے پاس رہتا ہے اور یہاں کھیتی باڑی اور جانوروں کے شکار کے ذریعے وگور بسر کرتا ہے۔ سپائی گاؤں کی آبادی 208 افراد پر مشتمل ہے اور یہ آج اس زمانے میں بھی امریکا کا واحد مقام ہے کہ جہاں ڈاک خچروں کے ذریعے پہنچائی اور لائی جاتی ہے۔ اس گاؤں کے قدرتی حسن کو دیکھنے کے لیے سیاح جاتے تو ہیں لیکن یہاں جانا آسان نہیں ہے۔ یہ گرینڈ کینین کے مرکزی سیاحتی علاقے سے 56 کلومیٹر دور ہے اور یہاں جانے کے لیے کوئی راستہ بھی نہیں ہے، اس لیے یہاں پیدل جانا پڑتا ہے یا پھر خچر کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔


جزیرہ ٹرسٹان ڈی کونا، بحرِ اوقیانوس

نہ کوئی ریستوران ہے، نہ کوئی ہوٹل، نہ کریڈٹ کارڈز استعمال کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی محفوظ ساحل ہے، یہ زندگی کے دنیا کے دور دراز ترین جزیرے ٹرسٹان ڈی کونا کی جو بلاشبہ دنیا کا دور دراز ترین جزیرہ ہے۔ ٹرسٹان ڈی کونا بحر اوقیانوس کے وسط میں واقع ہے اور یہاں سے جنوبی افریقہ کا ساحل 2800 کلومیٹرز اور جنوبی امریکا کا ساحل 3000 کلومیٹر دور ہے۔ اس کی قریبی ترین آبادی بھی 2400 کلومیٹر دور واقع سینٹ ہلینا کا جزیرہ ہے۔ اس جزیرے کو 1506ء میں ٹرسٹان ڈی کونا نامی ایک جہاز ران نے دریافت کیا تھا اور  اس کا نام انہی پر  رکھا گیا۔   اس علاقے اور ملحقہ جزائر کا پہلا تفصیلی نقشہ 261 سال بعد پر ایک فرانسیسی مہم  میں بنایا گیا۔ لیکن ان دونوں مہمات میں ان جزیروں پر اترنے کی کوشش نہیں کی گئی البتہ 1810ء میں ایک امریکی مہم جو جوناتھن لیمبرٹ نے اس جزیرے پر قدم رکھا اور خود کو یہاں کا حاکم قرار دے دیا۔ لیکن اس جزیرے کی  جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر 1816ء نے برطانیہ نے اس پر قبضہ کرلیا اور آج 267 لوگ یہاں رہتے ہیں۔ یہاں کے مکین  جدید زندگی کی کئی سہولیات بھی رکھتے ہیں جیسا کہ یہاں ایک ہسپتال  ہے کہ جہاں دانتوں تک کا علاج ہوتا ہے اور آپریشن تھیٹر بھی ہے۔ روزمرہ کا سامان بھی دستیاب رہتا ہے البتہ  اگر آپ نے کچھ منگوانا ہو تو پہلے سے آرڈر دینا پڑتا ہے جس کے  بعد ہفتے بھر میں یا پھر کبھی کبھی مہینے میں یہ سامان جزیرے پر پہنچتا ہے۔ روایتی بجلی جزیرے پر موجود نہیں البتہ ہر چند گھروں کے بعد یہاں ڈیزل جنریٹرز نصب ہیں کہ جن کے ذریعے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ اگر آپ اس دور دراز جزیرے پر رہنا چاہتے ہیں، جیسا کہ زندگی  کے ہنگاموں سے دور پر سکون زندگی  چاہنے والے افراد کی خواہش ہوتی ہے تو یاد رکھیں کہ اس جزیرے کی مرکزی آبادی ایڈنبرو ایک آتش فشاں کے دامن میں واقع ہے۔


اوٹ کیگ وِک، الاسکا، امریکا

اب سمندروں سے دُور چلتے ہیں شمال بلکہ انتہائی شمال کی جانب کہ جہاں امریکی ریاست الاسکا کا سب سے شمالی شہر اوٹ کیگ وِک (Utqiagvik)واقع ہے۔ یہ دائرۂ قطب شمالی کے اندر واقع ہے اور انتہائی دور دراز اور سرد علاقہ ہے کہ جہاں موسم شدید تو ہے لیکن ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہاں 500ء سے انسانی آبادی موجود ہے۔  یہ علاقہ زمین کی مستقل جمی ہوئی برف پر واقع ہے جو 500 میٹرگہری ہے اور یہاں کی 3 ماہ رہنے والی"گرمی" میں بھی اوسط درجہ حرارت  2 درجہ سینٹی گریڈ ہوتا ہے جبکہ ساڑھے 4 ماہ جاری رہنے والی شدید ٹھنڈ میں اوسط درجہ حرارت منفی 16 ڈگری رہتا ہے۔ اس شدید ٹھنڈ کے ساتھ یہاں کے باسیوں کو 65 دن تک سورج سے بھی محروم رہنا پڑتا ہے۔ جی ہاں! کیونکہ یہ علاقہ دائرۂ قطب شمالی کے اندر واقع ہے اس لیے نومبر  میں یہاں سورج غروب ہو جائے تو اگلے دو ماہ تک نہیں نکلتا۔ یہاں کی آبادی 4429 ہے اور جدید  زندگی کی کئی  سہولیات یہاں دستیاب ہیں جیسا کہ ان کے گھر علاقے سے نکلنے والی قدرتی گیس سے گرم رہتے ہیں، یہاں فراہمی و نکاسی آب کا جدید نظام موجود ہے، کوڑا مستقل پر اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ شہر میں سات گرجے ہیں اور ایک کالج بھی جبکہ یہاں فون، ڈاک، ریڈیو اور انٹرنیٹ   بھی موجود ہیں۔ ہوٹل، ریستوران، ڈرائی کلینر، بینک اور بہت کچھ موجود ہے  لیکن یہاں صرف ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے، جس کا ٹکٹ  بہت مہنگا ہے۔


لا رِنکوناڈا، پیرو

آخر میں چلتے ہے براعظم جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں جہاں اینڈیز کے پہاڑی سلسلے میں لا رِنکوناڈا (La Rinconada) نامی شہر واقع ہے۔ اس جگہ کو جو چیز سب سے زیادہ اہم بناتی ہے وہ یہ کہ لا رِنکوناڈا دنیا کا بلند ترین شہر ہے جو 16 ہزار فٹ کی بلندی پر ماؤنٹ انانیا کی چوٹی پر ہے۔ سال بھر منفی درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والوں کو بلندی کی وجہ سے شدید سر درد، متلی اور سانس کے  مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہاں 50 ہزار افراد رہتے ہیں۔ یہ دور دراز اور انتہائی سرد شہر کہ جہاں دورِ جدید کی کوئی بنیادی سہولت موجود نہیں، نہ نکاسی آب کا نظام ہے اور نہ ہی کوڑا ٹھکانے لگانے کا، علاقے میں جا بجا گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں، یہاں اتنے زیادہ لوگ کیسے اور کیوں رہتے ہیں؟ سونے کے لیے! جی ہاں! اردگرد کے علاقے میں سونے کی کانیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ 2001ء سے 2009ء کے دوران اس علاقے کی آبادی میں 230 فیصد اضافہ ہوا۔ غیر قانونی کانوں میں مزدوروں کو دن بھر کام کرنے کے بعد تنخواہ دینے کے بجائے کان سے نکلنے والا خام مال دیا جاتا ہے جس میں سے وہ سونا نکال سکتے ہیں، اب یہ ان کی قسمت ہے کہ سونا نکلے یا نہ نکلے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں