نایاب 'سیاہ تیندوا' افریقہ میں

توہم پرست لوگ کہتے ہیں کہ کالی بلّی نحوست کی علامت ہوتی ہے لیکن وسطی کینیا میں کام کرنے والے بایولوجسٹ نک پل فولڈ کے لیے "کالی بلّی" کو ڈھونڈنا زندگی کا سب سے بڑا ہدف تھا۔ انہوں نے 2018ء کے اوائل میں لوئسابا کے محفوظ جنگلی علاقے میں خفیہ کیمرے نصب کیے اور بالآخر ان کو وہ مل گیا جس کی وہ تلاش میں تھے: انتہائی نایاب سیاہ تیندوے کی موجودگی کا ناقابلِ تردید ثبوت۔

ایک چھوٹے مادہ تیندوے کو ایک بڑے عام رنگ کے تیندوے کے ساتھ دیکھا گیا، جو ممکنہ طور پر اس کی ماں تھی۔

برص کے مرض کی وجہ سے جس طرح کسی انسان یا جانور کی جلد مکمل طور پر سفید ہو جاتی ہے، جسے انگریزی میں albinism کہتے ہیں، اسی طرح اس کا الٹ melanism بھی ہے جو انتہائی نایاب جین کے نتیجے میں ہوتا ہے جس سے کسی جانور کی جلد پر سیاہ رنگ غالب آ جاتا ہے اس لیے وہ کالے رنگ کا نظر آتا ہے۔ کالا برص رکھنے والے تیندووں کے بارے میں دہائیوں سے کہا جا رہا تھا کہ یہ کینیا میں پائے جاتے ہیں لیکن ابھی تک ان کی موجودگی کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا تھا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنے نایاب ہیں۔

افریقن جرنل آف ایکولوجی میں شائع ہونے والی تصاویر ایک صدی کے دوران افریقہ میں اس جانور کی موجودگی کا پہلا سائنسی ثبوت ہے۔ اس سے پہلے اس جانور کو صرف ایک بار 1909ء میں عدیس ابابا، ایتھوپیا میں کھینچی گئی ایک تصویر میں دیکھا گیا تھا۔ پل فولڈ کے مطابق کینیا میں ان افراد سے بھی بات کریں جو بوڑھے ہیں اور اس زمانے میں گائیڈز کے فرائض انجام دیتے تھے جب شکار کی قانوناً اجازت تھی یعنی 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں، تو انہیں بھی سیاہ تیندوے کا کوئی شکار یاد نہیں ہے۔

پل فولڈ کا کہنا ہے کہ افریقہ سے لے کر مشرقی روس تک تیندوے کی 9 ذیلی اقسام ہیں اور آج موجود 11 فیصد تیندوے melanistic ہیں جن میں سے زیادہ تر جنوب مشرقی ایشیا میں پائے جاتے ہیں کہ جہاں کے گھنے جنگلات میں سورج کی روشنی کم پہنچتی ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں