دنیا کے 5 خطرناک ترین پل

آپ کو شاید سن کر حیرت ہو لیکن کچھ لوگوں کو پُلوں سے ڈر لگتا ہے یہاں تک کہ وہ کئی میل زیادہ ڈرائیو کرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچتے ہیں لیکن کسی پل پر نہیں جاتے۔ اس مرض کو انگریزی زبان میں Gephyrophobia کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلندی کے خوف کے مبتلا افراد بھی چند پلوں پر گھبرا جاتے ہیں لیکن چند پل واقعی ایسے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر ایک اچھے بھلے بہادر شخص کی سٹّی بھی گم ہو جائے۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے دنیا کے چند خطرناک ترین پلوں کے بارے میں۔

سیون مائل برج، فلوریڈا، امریکا

خطرناک سمجھے جانے والے زیادہ تر پل اپنی بلندی کی وجہ سے دہشت کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن امریکی ریاست فلوریڈا کے سیون مائل برج کی زیادہ سے زیادہ بلندی صرف 65 فٹ ہے۔ اسے اس لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ سمندر کے اوپر بنا ہوا ہے اور فلوریڈا کے ساحل کے ساتھ واقع کئی جزائر کو باہم منسلک کرتا ہے۔  اس پرایک مرتبہ چڑھ گئے تو پھر آپ کو میلوں تک صرف پل اور سمندر ہی نظر آئے گا۔ پھر اس علاقے پر طوفانوں کی "نظرِ کرم" بھی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے یعنی اگر کبھی اچانک آنے والے کسی طوفان میں پھنس گئے تو اِدھر کے رہیں گے، نہ اُدھر کے۔


گھاسا کا معلّق پل، نیپال

اس کا نام معلّق نہیں بلکہ جھولتا پل ہونا چاہیے، سطح سمندر سے بہت زیادہ بلندی اور ہواؤں کی وجہ سے یہ پل بری طرح ہلتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود مقامی باشندے اپنے مال مویشیوں سمیت اسے پارکرتے ہیں۔ یہ کتناخطرناک ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جانوروں کی آنکھوں پرپٹی باندھ دی جاتی ہے کہ کہیں وہ نیچے گہرائی دیکھ کر بدک نہ جائیں۔


کوان ڈنسکی برج، روس

اس لرزتے ہوئے پُل کو پار کرنے کے لیے آپ کو ضرورت ہوگی فولادی اعصاب کی۔ روس کے ٹرانس بیکال علاقےمیں واقع یہ پل صرف چھ فٹ چوڑا ہے اور اس کے دونوں جانب کوئی حفاظتی جنگلا وغیرہ موجود نہیں یعنی گاڑی ذرا سی اِدھر اُدھر ہوئی تو کچھ ہی دیر میں نیچے موجود سرد پانیوں میں ہوگی۔ اس پل کے پرانے فولادی ڈھانچے پر لکڑیوں کے تختے رکھے گئے ہیں جو اکثر ہونے والی برف باری کی وجہ سے پھسلن کا سبب بنتے ہیں۔ 1876 فٹ طویل اس پل پر ایک اور خطرہ ہے تُند و تیز ہواؤں کا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرائیور اس پل کو پارکرتے ہوئے اپنی گاڑی کی کھڑکیاں کھول دیتے ہیں تاکہ وہ تیز ہوا ان کی گاڑی کو پانی میں نہ الٹ دے۔ یہ پل دراصل ریلوے لائن کے لیے بنایا گیا تھا لیکن بعد ازاں اس کا منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ یوں یہ پل مقامی آبادی کو مفت میں مل گیا کہ ہمت ہے تو پار کرلو۔ ویسے سب سے حیران بات یہ ہے کہ آج تک اس پل پر کوئی حادثہ پیش نہیں آیا حالانکہ یہ تین دہائیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ بہت ماہر ڈرائیور ہی اسے پار کرنے کی ہمت کرتے ہوں گے۔


ہونگ یاگو برج، چین

سال 2017ء کے اختتام پر کھولا گیا 488 فٹ طویل یہ پل 220 میٹر گہری ایک کھائی کے اوپر بنا ہوا ہے اور اگر آپ  پیروں تلے زمین نکل جانے کے محاورے کو عملی روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں اس پل پر دیکھ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نیچے شیشہ لگایا گیا ہے۔ آپ کے اور یقینی موت کے درمیان صرف 1.6 انچ موٹا شیشہ حائل ہے۔ یہ پل بیک وقت 2 ہزار افراد کو سنبھال سکتا ہے لیکن 600 سے زیادہ افراد کو اس پر جانے نہیں دیا جاتا۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ پل کے ایک حصے پر اسپیشل افیکٹس موجود ہیں یعنی جہاں پیر پڑتا ہے وہاں سے شیشہ ٹوٹنے کی آواز آتی ہے یعنی کہ انتظامیہ نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ لوگوں کی جان نکالنی ہے۔


حسینی برج، ہنزہ،پاکستان

اس کو تو پل کہنا بھی عجیب ہی لگتا ہے۔ خوبصورت وادئ ہنزہ کے گاؤں حسینی میں واقع یہ پل اسی جگہ پر بنے پرانے پل کے مقابلے میں تو کہیں زیادہ "جدید" ہے لیکن پھر بھی اتنا خطرناک ہے کہ زیادہ تر لوگ ایک دو قدم ہی پل پر رکھتے ہیں اور تصویر کھنچوا کر واپس آ جاتے ہیں۔ بلند وبالا پہاڑوں کے دامن میں دریائے ہنزہ کے اوپر واقع یہ پل دراصل رسیوں اور لکڑی کے تختوں سے بنایا گیا ہے۔ تیز ہواؤں اور پار کرنے والے کے وزن کی وجہ سے یہ بری طرح جھولتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایڈونچر پسند کرنے والے ہنزہ جاتے ہیں تو حسینی برج کا رخ ضرور کرتے ہیں۔ مقامی افراد کندھے پر سامان لادے اس پل کو ایسے پار کرتے ہیں جیسے کسی کشادہ گلی میں گھوم رہے ہوں جبکہ سیاحوں کو اچھی طرح علم ہے کہ ایک غلط قدم انہیں نیچے دریا میں ڈبو سکتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں