سب سے بڑا ایٹم بم سمندر میں پھٹ جائے تو کیا ہوگا؟

اگر انسانی تاریخ کا سب سے طاقتور نیوکلیئر ہتھیار سمندر کی انتہائی گہرائی میں پھٹ جائے تو کیا ہوگا؟ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ سونامی کی سینکڑوں میٹر بلند لہریں ساحلی شہروں کو تباہ کردیں گی، زلزلے کئی ملکوں کو تہس نہس کردیں گے اور نئے آتش فشاں نکل آئیں گے جس سے زمین کا موسم بدل کر رہ جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ زمین پھٹ جائے؟ یا اپنے مدار سے ہی ہٹ جائے؟ آئیے اس سوال کا حقیقی جواب تلاش کرتے ہیں۔

اس وقت زمین کا سب سے گہرا مقام ماریانا ٹرینچ ہے۔ ماریا ٹرینچ بحر الکاہل میں ایک انتہائی گہری سمندری وادی ہے جو دو ٹیکٹونک پلیٹوں کے کنارے پر واقع ہے۔ اس کی گہرائی تقریباً 11 کلومیٹر ہے یعنی کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو بھی ڈال دیا جائے تو اس کا پتہ نہ چلے کہ کہاں گیا۔ یہاں نہ روشنی پہنچتی ہے اور نہ ہی انسان کی رسائی ہے، اس لیے یہ آبی حیات کے لیے ایک جنت ہے اور یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس کرۂ ارض پر موجود دور دراز ترین مقام ہے۔ تو اگر اس مقام کو نیوکلیئر تجربے کے لیے منتخب کیا جائے تو کیسا رہے گا؟

تاریخ کا سب سے طاقتور نیوکلیئر بم روس کا تیار کردہ RDS-220 ہائیڈروجن بم ہے کہ جسے 'زار بمبا' کہا جاتا ہے۔ جب اس کا تجربہ کیا گیا تھا تو اتنا شدید دھماکا ہوا تھا کہ اس کی شاک ویوز نے زمین کے تین چکر لگا لیے تھے۔ دھماکے سے پیدا ہونے والا کھمبی نما بادل آسمان میں 56 کلومیٹرز کی بلندی تک گیا تھا۔ دھماکے سے ایک ہزار مربع کلومیٹر کے دائرے میں سب کچھ تباہ ہو گیا تھا۔ ایسے بم اتنی زیادہ توانائی خارج کرتے ہیں کہ قریب کوئی جھیل بھی ہو تو وہ بھاپ بن کر اڑ جائے۔ اگر اسی بم کو ماریانا ٹرینچ میں پھاڑا جائے تو کیا ہوگا؟

پہلے چند مائیکروسیکنڈز میں نیوکلیئر فیول اپنا چین ری ایکشن شروع کرتا ہے اور 50 میگاٹن TNT کے برابر دھماکا پیدا کرتا ہے۔ زبردست روشنی سے تاریخ میں پہلی بار ماریانا ٹرینچ روشن ہو جاتی ہے۔ اس دھماکے سے پانی میں آگ کا ایک بلبلہ پیدا ہوتا ہے، ایک ریڈیو ایکٹو مرکزہ، جس میں ان بدقسمت مچھلیوں کی باقیات بھی ہیں کہ جو اس دھماکے کی نظر ہو گئیں۔ یہ نیوکلیئر بلبلہ اپنے اردگرد موجود پانی کو بھاپ میں بدلتا ہوا تیزی سے بڑھتا ہے۔ اس بلبلے کا دباؤ اتنا شدید ہے کہ یہ ہر طرف بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے اس کی راہ میں کوئی چیز حائل ہی نہیں۔ اس سے نکلنے والی شاک ویو دنیا بھر کے زلزلہ پیما مراکز میں محسوس کی گئی ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ یہ جتنی تیزی سے ابھرتا ہے، اتنی ہی تیزی سے رک بھی جاتا ہے۔ اگر یہ دھماکا زمین کی سطح پر ہوتا تو آگ کا گولا سیکنڈ بھر میں دس کلومیٹر کی بلندی کو چھو رہا ہوتا کیونکہ ہمارا کرۂ ہوائی اسے روکنے میں ناکام رہتا لیکن ماریانا ٹرینچ کی گہرائی میں کہ جہاں اوپر 11 کلومیٹر تک پانی ہی پانی ہے، جس کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ یہ نیوکلیئر بلبلہ فوراً ہی سکڑنے لگ جاتا ہے۔ آگ کے گولے اور پانی کی یہ کشمکش بالآخر پانی کی کامیابی پر مکمل ہوتی ہے۔ آگ کا گولہ کئی چھوٹے، گرم اور ریڈیو ایکٹو بلبلوں میں تبدیل ہو جاتا ہے جو اوپر کی جانب اپنا سفر شروع کر دیتے ہیں اور جب عظیم الشان دھماکا سطح آب تک پہنچتا ہے تو شایدچند چھوٹی سی لہریں پیدا ہوں یا بحر الکاہل میں گرم ریڈیو ایکٹو پانی پر کچھ بلبلے پھٹیں۔ جاپان اور کیلیفورنیا کو تباہ کرنے والا سونامی تو پیدا نہیں ہوگا لیکن ہو سکتا ہے علاقے میں موجود کشتیوں اور وھیل مچھلیوں پر برا وقت آ جائے۔ ریڈیو ایکٹو باقیات چند روز بعد بحر الکاہل کے پانیوں میں گھل مل جائیں گی، بلکہ ریڈیو ایکٹو پانی اور نمک بخارات بن کر فضا میں چلا جائے گا۔

اگر یہ بم ماریانا ٹرینچ کی گہرائی میں عین دو ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان بھی پھاڑا جائے تو کچھ بڑا نقصان نہیں ہوگا۔ اس مقام پر زلزلے ویسے ہی عام ہیں اور اس دھماکے سے جو زلزلہ پیدا ہوگا اس سے کہیں زیادہ طاقت کے زلزلے یہاں سال بھر آتے رہتے ہیں۔ زمین کے مدار پر بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ گزشتہ 70 سالوں میں انسان نے ہزاروں نیوکلیئر تجربات کیے ہیں، جن سے مدار میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تو اس مرتبہ ایسا کیوں ہوگا؟

انسان کی طاقتور ترین چیز بھی قدرتی طاقتوں کے مقابلے میں مضحکہ خیز حد تک کمزور ہے یعنی سب سے بڑا نیوکلیئر ہتھیار پھاڑ کر بھی ہم گہرے ترین سمندر میں کوئی اتھل پتھل پیدا نہیں کر سکتے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں