انسان 56 سال بعد پہلی بار چاند پر قدم رکھے گا

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) نے 2028ء تک ایک مرتبہ پھر انسان کو چاند پر لے جانے کے منصوبوں کو تیز کردیا ہے جو 1972ء کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ کوئی انسان چاند پر جائے گا۔ دعویٰ ہے کہ اس بار انسان چاند پر قیام کرے گا۔ ناسا کے سربراہ جم برائڈنسٹائن کا کہنا ہے کہ چاند کو انسان کے رہنے کے قابل بنانے کا منصوبہ بارہا آگے پیچھے ہوتا رہا ہے۔

کمانڈر جین کیرنن گیارہویں اور آخری انسان تھے جنہوں نے آج سے 47 سال پہلے اپالو17 مشن کے دوران چاند کی سطح پر چہل قدمی کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017ء میں کہا تھا کہ وہ امریکیوں کو ایک مرتبہ پھر چاند کی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں اور مریخ کے مشن کے لیے وہاں ایک پلیٹ فارم بنانے کے خواہشمند ہیں۔

چاند کی سطح پر جانے اور وہاں سے آنے کے لیے ناسا ایک خلائی اسٹیشن بھی بنانا چاہتا ہے جسے "گیٹ وے" کہا جا رہا ہے جو 2026ء تک چاند کے مدار میں ہوگا۔

واشنگٹن میں واقع ناسا کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برائیڈنسٹائن نے کہا کہ ہمارے لیے جتنا جلدی ہو چاند پر واپس جانا اہم ہے۔ اس مرتبہ ہم صرف جھنڈے اور قدموں کے نشان چھوڑنے  اور اس کے بعد 50 سال تک دوبارہ رخ نہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ قیام کے لیے چاند پر جائیں گے۔

انسان کی چاند پر واپسی سے قبل ناسا 2024ء تک انسان کے بغیر ایک مشن چاند پر بھیجے گا اور اس مشن کے لیے پروب بنانے کی خاطر نجی شعبے سے مدد طلب کر رہا ہے۔

ناسا نے چاند کے مدار میں جس خلائی اسٹیشن کا منصوبہ بنایا ہے وہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کی طرح ہمیشہ آباد نہیں ہوگا کہ جس میں ہر وقت خلاباز موجود رہتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے امریکا دوسرے ممالک کی مدد کا خواہشمند ہوگا۔

یاد رہے کہ ایک چینی خلائی گاڑی نے رواں پچھلے مہینے چاند کی دوسری طرف لینڈنگ کی ہے۔ چین نے 2017ء میں ہی یہ اعلان کردیا تھا کہ وہ چاند پر انسان بھیجنے کی تیاریاں بھی کر رہا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں