سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ کہاں ہے؟

کینیڈا اور امریکا کے انتہائی شمالی علاقے ہوں یا سائبیریا کا سرد جہنم، افریقہ کے بیابان ہوں یا عرب کے صحرا، انڈونیشیا اور برازیل کے گھنے جنگلات ہوں یا عظیم سمندروں کی گہرائیاں، انسان ان دُور دراز مقامات پر آخر کیا تلاش کرتا پھرا ہے؟ جی ہاں! قدرتی وسائل، ہیرے اور نایاب اور کمیاب دھاتیں جیسے سونا کہ جس کے حصول کی تمنا ہر انسان کے دل میں نہ بھی ہو تو ہر عورت کے دل میں ضرور ہوتی ہے۔ زیورات کی دکانیں دیکھ کر اُن کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ اگر انہیں دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ دکھا دیا جائے تو کیا ہوگا؟ شاید اگلا سانس لینا بھول جائیں۔

تفنّن برطرف، آئیے آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ سونے کا سب سے بڑا ذخیرہ کہاں ہے؟ یہ نیو یارک میں واقع امریکا کے فیڈرل ریزرو بینک کے مرکزی دفتر میں  ہے ۔ دنیا میں کہیں بھی ایک مقام پر اتنا زیادہ سونا موجود نہیں جتنا کہ اس ایک جگہ  پر ہے، وہ الگ بات کہ یہ سارا سونا امریکا کا نہیں ہے بلکہ امریکی و غیر ملکی حکومتوں، مختلف بین الاقوامی اداروں اور دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کا ہے۔ کسی بھی نجی ادارے یا فرد کو اس تجوری میں اپنا سونا رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہے۔

نیو یارک شہرکے قلب مین ہٹن میں واقع   اس عمارت کی تعمیر 1920ء کی دہائی کے اوائل میں ہوئی اور آج یہاں تقریباً ساڑھے 6 ہزار ٹن سونا  ہے۔ اس عظیم ذخیرے کی حفاظت کے لیے ایسے ایسے اقدامات کیے گئے ہیں کہ ایک صدی گزر گئی ہے کسی کی اتنی جرات نہیں کہ اس پر ہاتھ ڈال سکے۔

اس تجوری میں زیادہ تر سونا دوسری جنگ عظیم کے بعد آیا کہ جب کئی ملکوں نے اپنے سونے کے ذخائر کو کسی محفوظ مقام پر رکھنا چاہا۔ 1973ء میں اس کا ذخیرہ اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا جب یہاں موجودہ سونے کا وزن 12 ہزار ٹن تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک آہستہ آہستہ اس ذخیرے میں کمی آئی ہے لیکن اب آدھا رہ جانے کے باوجود یہ دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ ہے۔

2015ء میں اس جگہ پر 5 لاکھ 8 ہزار سونے کی اینٹیں موجود تھیں، جن کا کل وزن 6 ہزار 350 ٹن تھا۔ یہ خزانہ شہر سے 80 فٹ نیچے زیرِ زمین اور سطحِ سمندر سے 50 فٹ نیچے رکھا گیا ہے۔ سونے کی اینٹیں لفٹ کے ذریعے اس تہہ خانے تک لائی جاتی ہیں۔

اس حصے میں داخل ہونے کا واحد راستہ ایک 90 ٹن کے سلنڈر سے نکلتا ہے جس کی اونچائی 9 فٹ ہے ۔ یہ 140 ٹن وزنی اسٹیل و کنکریٹ کے ڈھانچے میں نصب ہے۔ یہ بند کرنے پر ایئرٹائٹ اور واٹر ٹائٹ ہو جاتا ہے یعنی نہ ہوا اندر داخل ہو سکتی ہے اور نہ پانی۔ یہاں 24 گھنٹے کڑی نگرانی کی جاتی ہے جس کے لیے موشن سینسر کیمرے تک نصب ہیں۔

آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتے چلیں کہ یہ سونے کی اینٹیں بھی 100 فیصد خالص سونے کی نہیں ہوتیں۔ اگر مکمل خالص سونے کی اینٹ بنائیں گے تو وہ زیادہ عرصے تک اپنی شکل برقرار نہیں رکھ سکتی اور اسے محفوظ رکھنے یا کہیں منتقل کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔ اس لیے اس میں بہت معمولی مقدار میں کوئی دوسری دھات، تانبا، چاندی یا پلاٹینم شامل کیا جاتا ہے۔

ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں افراد سونے کے اس خزانے کو دیکھنے کے لیے نیو یارک آتے ہیں۔ یہ دورے فیڈرل ریزرو بینک آف نیو یارک اور فیڈرل ریزرو سسٹم کی جانب سے مہمانوں کو آگہی دینے کے لیے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ آپ بھی اس کے لیے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں، یہاں کلک کیجیے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں