وہ سائنسی "حقائق" جو درحقیقت سچ نہیں

کیا آپ اس کو حقیقت سمجھتے ہیں کہ انسان اپنے دماغ کا صرف 10 فیصد استعمال کرتا ہے؟ یا پھر یہ کہ خلاء سے نظر آنے والی انسانی تعمیر دیوارِ چین ہے؟ تو تیار ہو جائیں، ایسے ہی کئی مفروضوں کا پردہ ہم چاک کرنے والے ہیں۔

مفروضہ: پانی بجلی کا اچھا موصل ہے

گو کہ یہ سائنسی داستان ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ اپنا ٹوسٹر لے کر غسل خانے میں چلے جائیں۔ درحقیقت خالص پانی بجلی کا غیر موصل یعنی insulator ہے، یعنی کہ بجلی کا موصل (conductor) نہیں۔ خطرہ پیدا ہوتا ہے اس میں موجود معدنیات اور کیمیائی مادّوں سے جنہیں ions کہتے ہیں، جو الیکٹرک چارج رکھتے ہیں۔ خالص پانی اصولی طور پر محفوظ تو ہے لیکن حقیقی دنیا میں ایسا تقریباً ناممکن ہے یہاں تک کہ صاف شدہ پانی میں بھی ions ہوتے ہیں۔


مفروضہ: جسم کے اندر خون نیلے رنگ کا ہوتا ہے

یہ جھوٹ بہت زیادہ پھیلایا جاتا ہے کہ خون کو جب تک ہوا نہ لگے یا آکسیجن سے نہ بھر جائے وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے جسم میں رگیں نیلے رنگ کی دکھائی دیتی ہیں، اس لیے یہ بات معقول لگتی بھی ہے۔ لیکن درحقیقت انسانی خون جسم کے اندر بھی ویسا ہی ہوتا ہے جیسا باہر ہے، یعنی لال رنگ کا۔ دراصل روشنی کو جذب کرنا اور پھیلانا ہماری رگوں کے اوپر موجود بافتوں (tissues) کا کام ہے جن کی وجہ سے ہمارے جسم میں دوڑتے خون کا رنگ نیلا لگتا ہے۔


مفروضہ: انسان صرف 10 فیصد دماغ استعمال کرتا ہے

خفیہ دماغی طاقت کو استعمال کرنے کا تصور کسی فلم کا خیال تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ دراصل اس جھوٹ کے ساتھ اس حقیقت کو ملایا جاتا ہے کہ 90 فیصد دماغی خلیات دراصل "سفید مادّہ" ہیں جو نیورونز کو زندہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور صرف دس فیصد وہ "سرمئی مادّہ" ہے جو سوچ کے کام آتا ہے۔ لیکن یہ سفید مادّہ کبھی بھی دماغ کی طاقت کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا اس لیے یہ کہنا کہ 90 فیصد دماغ ہی بیکار ہے، بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے آپ چھلکے پھینک کر کہیں کہ پوری مونگ پھلی ضائع ہوگئی۔


مفروضہ: دیوارِ چین خلا سے نظر آنے والی واحد انسانی تعمیر ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جھوٹ 1932ء میں اس وقت سے پھیلا ہوا ہے جب 'رپلیز بلیو اِٹ آر ناٹ' کے مطابق "عظیم دیوارِ چین انسان کی بنائی گئی سب سے عظیم تعمیر ہے اور واحد بھی جو چاند سے انسانی آنکھ کو نظر آتی ہے۔" یعنی یہ جملہ اس وقت کہا گیا جب کسی مشین کو چاند پر پہنچنے میں بھی 30 سال باقی تھے ، یعنی اس دعوے کی سرے سے کوئی بنیاد ہی نہیں۔ خلابازوں کا کہنا ہے کہ بہت کم بلندی پر ہوں تو الگ بات ورنہ دیوارِ چین خلا سے نظر نہیں آتی۔


مفروضہ: گرگٹ اردگرد کے مطابق رنگ بدلتا ہے

ہاں گرگٹ اپنے خلیات پھیلا اور سکیڑ کر رنگت تبدیل کر سکتے ہیں جن میں موجود کرسٹلز روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے اردگرد موجود ہر رنگ میں تبدیل نہیں ہو سکتے اور ان کے رنگت بدلنے کا کیموفلاج سے تعلق نہیں۔ درحقیقت گرگٹ ان کرسٹلز کا استعمال رابطے کے لیے کرتے ہیں۔ گہرے رنگ جارحیت کو ظاہر کرتے ہیں، ساتھ ہی درجہ حرارت پر قابو پانے کے لیے بھی۔


مفروضہ: پانی صرف زمین پر ہے

بلاشبہ ہم نے اب تک کائنات میں پانی پر انحصار کرنے والی کوئی ذی شعور حیات نہیں دریافت کی، لیکن پانی صرف اور صرف زمین پر نہیں ہے۔ پتہ چلا ہے کہ مریخ پر محض برف ہی نہیں بلکہ مائع نمکین پانی بھی ہے۔ یہ تک دریافت ہوا ہے کہ مشتری کے چاند یوروپا کی برفانی تہہ کے نیچے ہماری زمین سے دوگنا پانی موجود ہے۔ کیا دور دراز سیاروں پر پانی کی بدولت کوئی ذی شعور زندگی موجود ہے؟ صرف وقت ہی بتائے گا۔


مفروضہ: چیونگ گم کو ہضم ہونے میں سات سال لگتے ہیں

اگر غلطی سے چیونگ گم پیٹ میں چلی گئی ہے یا پھر آپ کو تھوکنے کے لیے کوڑا دان نہ ملے تو چیونگ گم نکلنی پڑ جائے تو پریشان مت ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا جسم اسے ہضم نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ سات سالوں میں بھی نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چیونگ کم اندرہی چپک جاتی ہے۔ یہ ہمارے نظام ہضم سے گزر جاتی ہے، سالم حالت میں خارج ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر بچے زیادہ چیونگ گم نکل لیں تو یہ ان کی آنتوں کو بند کر سکتی ہے، لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔


مفروضہ: شترمرغ اپنا سر ریت میں دبا لیتا ہے

خوف میں اپنا سر ریت کے اندر دبا لیا تو شترمرغ سانس گھٹ جانے سے مر جائے گا۔ اس کے بجائے وہ کسی شکاری کو دیکھ کر اپنا سر اور گردن زمین پر رکھ لیتا ہے۔ اب کیونکہ شترمرغ کا سر اور گردن خاکی رنگ کا ہوتا ہے تو دور سے ایسا لگتا ہوگا کہ اس سے اپنا سر زمین میں دبایا ہوا ہے۔


مفروضہ: بجلی ایک مقام پر دوسری بار نہیں گرتی

بجلی کش سلاخ (lightning rods) پر کام کرنے والا کوئی بھی آدمی آپ کو بتا سکتا ہے کہ یہ سچ نہیں ہے کہ بجلی ایک ہی مقام پر دوبارہ نہیں گرتی۔ امریکی شہر نیو یارک کی مشہورِ زمانہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کو ہی لے لیں، ایک مرتبہ طوفان کے دوران اس میں 24 منٹ میں آٹھ مرتبہ بجلی گری۔ بجلی کش سلاخ نہ بھی ہو تو بجلی کو ایک ہی مقام پر دوبارہ گرنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ البتہ اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہےجیسا کہ بلندی، کھڑے پانی کی موجودگی وغیرہ۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں