دنیا بھر میں قائم چند ناقابلِ یقین اور انتہائی مہنگے گھر

آپ کے خیال میں دنیا کے مہنگے ترین مکانات بلکہ حویلیاں کیسی ہوتی ہوں گی؟ آئیے آپ کو لاس اینجلس کی پہاڑیوں سے چین کے نجی جزیروں تک کچھ ایسے مکانات دکھاتے ہیں جو دنیا کی مہنگی ترین حویلیاں سمجھی جاتی ہیں۔

پلایا وِسٹا آئل امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع ایک حویلی ہے جویورپ کے  ورسائے محل سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے۔ یہ مارکیٹ میں 159 ملین ڈالرز کے نرخ کے ساتھ پیش کی گئی لیکن فروخت 42.5 ملین ڈالرز میں ہوئی، یعنی یہ امریکا کے مہنگے ترین گھروں میں سے ایک بنی۔

یہ فلوریڈا کے اس مشہور علاقے میں ہے جو بحر اوقیانوس کے کنارے پر ہے اور امیروں کی حویلیوں کی وجہ سے "Millionaires’ Mile" کہلاتا ہے۔

5 ایکڑ پر پھیلی یہ جائیداد بحر اوقیانوس اور انٹرکوسٹل واٹروے کے درمیان واقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سے اردگرد کے پانیوں کا بہت خوبصورت نظارہ ملتا ہے۔

30 ہزار مربع فٹ پر اس گھر میں غیر معمولی اور انتہائی مہنگا سجاوٹ کا کام ہوا ہے۔ گھر کا داخلی دروازہ 12 فٹ بلند ہے اور 22 قیراط سونے سے بنا ہوا ہے۔ اندر سیڑھیاں جنوبی افریقی سنگِ مرمر کی ہیں۔

اس کے دیوان خانے میں 3D ٹیلی وژن تو ہے ہی لیکن اس میں 18 لوگوں کے لیے ایک 3D IMAX تھیٹر بھی موجود ہے۔

باورچی خانہ مہاگنی کی لکڑی سے بنا ہے اور اس پر سونے کی پتریوں کا کام بھی ہوا ہوا ہے۔


یہ مالیبو، کیلیفورنیا میں واقع ایک گھر ہے جو 135 ملین ڈالرز میں فروخت ہوا۔  اس میں 155 فٹ کا انفنٹی پول، دو ٹینس کورٹس اور 10 گاڑیوں کی جگہ رکھنے والا گیراج بھی شامل ہے۔

5 ایکڑ پر پھیلی اس جائیداد میں 12 بیڈرومز ہیں اور 24 غسل خانے۔ مجموعی طور پر گھر کا رقبہ 38 ہزار مربع فٹ ہے۔

اس گھر کا اپنا اسپورٹس کمپلیکس ہے کہ جس میں ایک جم، ایک باسکٹ بال کورٹ اور ایک باکسنگ رنگ موجود ہے۔


چین میں سب سے مہنگا گھر 149 ملین ڈالرز میں فروخت ہوا اور یہ غیر معمولی حد تک پرتعیش ہے۔ یہ ایک ارب چینی یوآن کی قیمت پر فروخت ہوا یعنی 149 ملین ڈالرز میں۔ نجی جزیرے پر واقع اس حویلی کا نام تاؤہوایوآن ہے جس کا مطلب ہے یوٹوپیا یعنی خیالی جنت۔

ساڑھے 72 ہزار مربع فٹ پر پھیلے اس گھر میں 32 بیڈرومز ہیں اور یہ 1663 ایکڑ زمین پر واقع ہے۔

اس میں سوئمنگ پولز بھی ہیں اور مختلف بہت خوبصورت آنگن بھی۔


کنیکٹیکٹ، امریکا میں 20 کمروں کا یہ محل ایک خندق، مینار اور پتھروں سے بنی دیواریں رکھتا ہے۔ کرس مارک کاسل کی تعمیر میں سات سال لگے اور اس کی لاگت 4.1 ملین ڈالرز رہی۔ اس میں 20 کمرے، تین منزلیں اور ایک غیر معمولی حد تک بڑا گیراج موجود ہے۔

اس کا باورچی خانہ چکردار شکل میں ہے اور اردگرد کی 354 ایکڑ زمین کا بھرپور نظارہ پیش کرتا ہے۔

اس میں ایک لائبریری، ایک سوئمنگ پول، مساج رومز اور 12 آتش دان ہیں۔


بیل ایئر، امریکا کی یہ حویلی 2017ء میں 250 ملین ڈالرز کی قیمت کے ساتھ پیش کی گئی تھی جو اسے امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی جائیداد بناتی ہے۔ اس کی حویلی متعدد منزلوں کی ہے اور 38 ہزار مربع فٹ پر پھیلی ہوئی ہے۔

اس گھر کے ساتھ ایک ہیلی کاپٹر بھی ہے جو 80ء کی دہائی کے معروف ٹیلی وژن شو "ایئروولف" میں آتا تھا۔

یہ حویلی اپنے غیر معمولی اور انتہائی مہنگے سجاوٹ کے سامان کی وجہ سے معروف ہے جیسا کہ یہ کیمرے کا مجسمہ، جس کی مالیت 1 ملین ڈالرز ہے۔


یہ امریکی ریاست انڈیانا کی ایک حویلی ہے جسے "امریکا کا بدصورت ترین گھر" کہا جاتا ہے۔ اس کے اصل مالک جیسی ہوسٹلر کو جیل ہوگئی تھی جس کے بعد یہ متعدد بار فروخت کے لیے پیش کیا جاچکا ہے۔ ساڑھے 29 ہزار مربع فٹ پر پھیلے اس گھر کو اپنے انوکھے اور مہنگے سامانِ آرائش کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ گھر فروخت نہیں ہو سکتا حالانکہ یہ پچھلے پانچ سالوں میں سات مرتبہ فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ اس کی وجہ غالباً اس گھر کی عجیب و غریب تعمیر ہوگی۔

چند کمروں کی کھڑکیاں عجیب انداز کی ہیں جن کی وجہ سے کافی روشنی اندر نہیں آتی۔ پھر ہر کمرے کی اپنی سیڑھیاں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس گھر کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا آسان نہیں ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں