عام چیزیں جو کینسر کا سبب بن سکتی ہیں

تمباکو نوشی کینسر کا سبب بن سکتی ہے، یہ بات تو ہم روز ہی سنتے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی کی وہ کون سی چیزیں ہیں جو ہمیں اس خطرناک مرض میں مبتلا کر سکتی ہیں؟ ہمارا طرزِ زندگی اور دیگر کئی عوامل ہیں جو کینسر لاحق ہونے کے خطرات کو بڑھتے ہیں۔ کینسر یعنی سرطان دِل کے امراض کے ساتھ ساتھ اموات کا بہت بڑا سبب ہے۔ یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کہ ان سے ہم روزمرہ زندگی میں وہ کون سی تبدیلیاں لا سکتے ہیں جن سے کینسر کا خطرہ گھٹ سکتا ہے۔

تمباکو نوشی

سالہا سال کی مہم کے بعد دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آ رہی ہے اور یہی دنیا بھر میں کینسر کا سب سے بڑا سبب ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والوں میں زندگی کی شرح تمباکو کا استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں 10 سال کم ہے۔ اگر آپ کو یہ عادت ہے تو یہ بات جان لیں کہ 40 سال کی عمر سے پہلے تمباکو نوشی کی عادت کا چھٹکارا آپ کے کسی بھی ایسے مرض میں مبتلا ہوکر مرنے کا خطرہ 90 فیصد تک کم کر سکتا ہے، جو تمباکو نوشی سے ہو سکتا ہے۔


زائد وزن

وزن زیادہ ہو جانے کی وجہ سے ہونے والے امراض میں سب سے پہلے دل کے امراض یا ذیابیطس آتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ تمباکو نوشی کے بعد اگر کسی وجہ سے سب سے زیادہ کینسر ہوتے ہیں تو وہ زائد وزنی یا موٹاپا ہے۔ 2014ء میں تمام کینسرز میں 8 فیصد کا سبب موٹاپا تھا۔


شراب

الکحل کا معمولی استعمال، صرف ایک گلاس روزانہ بھی، آپ کو کینسر کے قریب لے جا سکتا ہے۔ عورتوں میں 6 فیصد اور مردوں میں 4.5 فیصد کینسرز کا سبب الکحل کا استعمال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مشروبات کا بہت معمولی استعمال بھی سینے اور دیگر سرطانوں کا سبب بن سکتا ہے۔


ورزش کی کمی

جسمانی سرگرمی نہ کرنا وزن بڑھنے کا سبب بنتی ہے اور یوں بڑی آنت، سینے اور رحم کے سرطان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بالغ افراد کو ایک ہفتے میں 150 منٹ کی معمولی اور 75 منٹ کی سخت سرگرمی کرنی چاہیے۔


دھوپ

امریکا میں تمام اقسام کے کینسرز کے مریضوں کو ملا لیں تو بھی جلد کے سرطان کے حامل افراد زیادہ نکلیں گے اور یہ تعداد مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ ہے دھوپ میں موجود الٹرا وائلٹ شعاعوں کا سامنا۔ اس لیے ماہرین ساحلِ سمندر سن اسکرین کا استعمال کرنے اور جلد کو ڈھکنے والے لباس پہننے کا مشورہ دیتے ہیں۔


سیکنڈ ہینڈ اسموک

سگریٹوں میں موجود خطرناک کیمیائی مادّوں سے آپ کے سرطان میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتاہے، چاہے آپ تمباکو نوشی نہ بھی کرتے ہوں تب بھی۔ سیکنڈ ہینڈ اسموک، یعنی کسی دوسرے شخص کی سگریٹ اور منہ سے نکلنے والے دھوئیں کاسانس کے ذریعے آپ کے پھیپھڑوں تک پہنچنا، بھی بہت خطرناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مقامات اور دفاتر میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہوتی ہے۔


باربی کیو

گوشت کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر پکانےسے، فرائی کرکے یا سیخوں پر، کیمیائی مادے بن سکتے ہیں جو گوشت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ HCAs اور PAHs ان ہائیڈروکاربنز کی دو اقسام ہیں جو انسانی DNA کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور یوں کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔


گرم مشروبات

تحقیق بتاتی ہے کہ 149 درجہ فارن ہائٹ یعنی 65 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ گرم مشروبات غذائی نالی کے سرطان کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں بہت زیادہ درجہ حرارت ٹشوز یعنی بافتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور یو ںوہ کینسر کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اپنے گرم مشروب جیسا کہ چائے اور کافی وغیرہ کچھ ٹھنڈا کرکے پیا کریں۔


شفٹوں میں ملازمت

یہ بات حیران کن ہے کہ مختلف شفٹوں میں کام کرنے والے افراد میں کینسر کی شرح مختلف ہے۔ اس پر ابھی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں لیکن ماہرین نے یہ ضرور پایا ہے کہ رات میں کام کرنے والی نرسوں، اور ایسے ہی رات گئے تک کام کرنے والے شعبوں کے ملازمین، میں مختلف اقسام کے سرطانوں کی شرح زیادہ ہے۔ ابھی تک یقینی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے لیکن نیند کی کمی یا رات کے وقت مصنوعی روشنی کا زیادہ سامنا یا ان جیسے ہی دیگر عوامل کا ملاپ اس کا سبب بن سکتا ہے۔


پرواز

ایئر ہوسٹس میں سینے کے سرطان کی شرح دیگر شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہوتی ہے جبکہ جلد کے کینسر کی شرح بھی چار گنا زیادہ ہے۔ ماہرین کے خیال میں زیادہ بلند ی پر موجود تابکاری اس کا ایک سبب ہو سکتی ہے جو نہ صرف سینے بلکہ گردن، رحم، حلق، غذائی نالی، بڑی آنت، معدے، جگر اور لبلبے کے سرطان کا سبب بھی بنتی ہے۔


نیل پالش

کئی نیل پالش اور ناخنوں کی دیگر مصنوعات سرطان کا سبب بن سکتی ہیں اور ان میں موجود کیمیائی مادّوں کا نشانہ بن سکتے ہیں وہ افراد جو ان کا سامنا زیادہ کرتے ہیں یعنی بیوٹی پارلرز ملازمین۔ محققین نے پایا ہے کہ نیل سیلونز میں بخارات اور گرد کا بارہا یا بہت دیر تک سامنا کرنا کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ سیلون میں ہوا کا بہتر گزر اور دستانوں اور ماسک کا استعمال اس خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ لیکن سب سے آسان ہے نیل پالش ہی کو ترک کردیں۔


ڈرائی کلیننگ

آپ کے کپڑوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیائی مادّوں میں اہم ترین tetrachloroethylene ہے جو انسانوں میں سرطان کا سبب بنتا ہے۔ تحقیق میں پایا گیا ہے کہ وہ افراد جو اس کیمیائی مادّے کا سامنا بہت زیادہ کرتے ہیں ان میں مختلف کینسرز کی شرح زیادہ ہے۔


ذیابیطس

تقریباً 2 کروڑ افراد پر ہونے والی ایک عالمی تحقیق میں ذیابیطس اور سرطان کے خطرے کے درمیان ایک ربط پایا گیا ہے۔ ذیابیطس کی خاتون مریض مردوں کے مقابلے میں خطرے کی زد پر زیادہ پائی گئیں: صحت مند خاتون کے مقابلے میں ان میں کینسر بننے کا خطرہ 27 فیصد زیادہ تھا جبکہ مردوں میں یہ 19 فیصد رہی۔ سائنس دانوں کا سمجھنا ہے کہ خون میں شکر کی زیادہ مقدار DNA میں تبدیلی کا سبب بنتی ہوگی جو کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔


فضائی آلودگی

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق فضائی آلودگی اور کینسر کا تعلق بالکل واضح ہے۔ انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے پایا ہے کہ پھیپھڑوں کے کینسر سے ہر سال ہونے والی 2 لاکھ 20 ہزار اموات آلودگی کی بدولت ہوتی ہیں۔ ایک تازہ تحقیق نے منہ کے سرطان اور فضا میں موجود آلودہ عناصر کے درمیان تعلق بھی پایا ہے۔


ڈیزل کا دھواں

ڈیزل ایندھن پر چلنے والی گاڑیاں زیادہ خطرناک دھواں نکالتی ہیں، جس میں 30 ایسے مادّے بھی شامل ہیں جنہیں عالمی ادارۂ صحت کینسر کا سبب سمجھتا ہے۔


تابکاری

گھریلو استعمال کی بہت سی اشیا ء سے تابکار شعاعیں نکلتی ہیں جیسا کہ ٹیلی وژن، کار یہاں تک کہ فون سے بھی۔ ایکس-رے وغیرہ کروائیں تو اس میں بھی آپ کو تابکار شعاعوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ آپ کے لیے بڑے مسئلے کا سبب بن سکتی ہیں بالخصوص ان کے لیے جنہیں روزانہ ان کا سامنا ہوتا ہے جیسا کہ صحت کا عملہ، نیوکلیئر پاور پلانٹ میں کام کرنے والے وغیرہ۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں