ایئر بس A380، دنیا کا سب سے بڑا اور مہنگا ہوائی جہاز

ایئربس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2021ء سے A380 کی پیداوار بند کردے گا۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ یہ صرف 10 سالوں میں یہ دیوہیکل ہوائی جہاز 'اسٹیٹس سمبل' بننے کے باوجود اِس مقام تک پہنچ گیا؟ آئیے A380 کے عروج و زوال کی داستان دیکھتے ہیں اور اس کی وجہ جاننے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

ایئر بس کا A380 دنیا کا سب سے بڑا ہوائی جہاز ہے اور سب سے مہنگا بھی۔ اسے بوئنگ 747 کی مارکیٹ توڑنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ بہت بڑا ہدف تھا کہ ایک ایسا طیارہ متعارف کروایا جائے کہ جس کو چلانے کی لاگت بھی کم ہو اور یہ بوئنگ 747 جتنا بڑا بھی ہو۔ تحقیق کا نتیجہ نکلا ایک تجرباتی جہاز A3XX جو بعد میں A380 کہلایا۔ A380 کا تصور پہلی بار دسمبر 2000ء میں پیش کیا گیا تھا۔ A380 نے پہلی پرواز 27 اپریل 2005ء کو بھری تھی کہ جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے افراد فرانس کے شہر ٹولوس میں جمع ہوئے تھے۔ پہلے A380 تجرباتی جہاز اپنے چار انجنوں کی مدد سے فضا میں اڑان بھری تو لگتا تھا ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ پھر 25 اکتوبر 2007ء کو سنگاپور ایئرلائنز کی سڈنی جانے والی پرواز A380 کی پہلی کمرشل فلائٹ بنی۔

یہ سپر جمبو اب ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے سروس میں ہے۔ ہر دو منٹ بعد دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں کوئی A380 پرواز بھرتا یا لینڈ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ روزانہ اس جہاز کی 300 سے زیادہ پروازیں ہوتی ہیں اور 14 ایئرلائنز اسے 60 مقامات کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ آغاز سے اب تک یہ 250 ملین مسافروں کو اپنی منزلوں تک پہنچا چکا ہے۔

220 کھڑکیوں اور 16 دروازوں کا حامل دیوہیکل جہاز 239 فٹ لمبا، 79 فٹ بلند اور پروں کی 262 فٹ چوڑائی رکھتا ہے۔ اس کے ایک جہاز میں 4 ملین سے زیادہ پرزے ہوتے ہیں۔ A380 چلانے والی 14 ایئرلائنز میں ایئر فرانس، ایشیانا، برٹش ایئرویز، چائنا سدرن، الامارات، اتحاد، کورین ایئر، ہائی فلائی، لفتھانسا، ملائیشیا ایئرلائنز، کنٹاس، قطر ایئرویز، سنگاپور ایئرلائنز اور تھائی ایئرویز شامل ہیں۔ جاپان کی آل نپون ایئرویز کو بھی اپنا A380 مل چکا ہے جو یہ طیارہ حاصل کرنے والی نئی ایئرلائن ہے۔

A380 کی کامیابی کا سبب ہے مسافروں کو حاصل ہونے والا تجربہ۔ یہ آج کا آرام دہ ترین ہوائی جہاز بھی ہے کہ جو طویل سفر کے لیے بہترین ہے۔ طویل فاصلے کی پروازوں الامارات کا بہت دھیان ہوتا ہے اسی لیے اس نے سب سے زیادہ A380 طیارے خریدے ہیں بلکہ آج تک بننے والے آدھے طیارے اسی کے ہیں۔ لیکن تمام ایئرلائنز الامارات والی حکمتِ عملی نہیں رکھتیں کیونکہ ان کی طویل فاصلے کی پروازیں کم ہوتی ہیں اور وہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک براہِ راست پروازیں چلانا چاہتی ہیں۔ اُن کے لیے بوئنگ 787 ڈریم لائنر یا ایئر بس A350 جیسے نئے ہوائی جہاز زیادہ مناسب ہیں۔ کنٹاس ایئرلائنز کے CEO کے مطابق دو 787 ڈریم لائنرز چلانا ایک A380 سے زیادہ سستا پڑتا ہے۔

445 ملین ڈالرز سے بھی زیادہ مہنگا A380 بیچنا خود ایئر بس کے لیے کسی دردِ سر سے کم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی پیداوار بالآخر 251 جہازوں پر پہنچ کر رک گئی ہے کہ جن میں سے 234 فراہم کیے جا چکے ہیں اور صرف 17 کے آرڈرز ابھی ایئربس کے پاس ہیں جن میں سے 14 الامارات کو جائیں گے جبکہ باقی 3 جاپان کی آل نپون ایئرویز کو۔

مختصر یہ کہ A380 بوئنگ 747 جیسا ایک کماؤ پوت نہیں بن سکا اور یہی وجہ ہے کہ اس کو وہ مقام حاصل نہیں ہو پایا جس کا یہ خواہش مند تھا لیکن یہ حقیقت ہے کہ A380 ہوا بازی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ امید ہے کہ اس ہوائی قلعے کو ہم آئندہ کئی سالوں تک فضا میں پرواز کرتا ہوا دیکھتے رہیں گے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں