آپ خون کا عطیہ نہیں دے سکتے، لیکن کیوں؟

خون کے عطیات دینا بہت اہم اور ضروری عمل ہے اپنی صحت کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ لیکن کئی وجوہات ایسی ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ یہ عطیہ نہیں دے سکتے۔ اس کا مقصد آپ کی حفاظت کرنا ہے ساتھ ہی اُس کی بھی جسے یہ خون لگے گا۔

چند ادویات کا استعمال

زیادہ تر ادویات تو ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ کو خون کے عطیات سے روکا جائے لیکن چند ادویات ایسی ہیں کہ جن کی آخری خوراک لینے کے بعد آپ کچھ عرصے تک خون کا عطیہ نہیں دے سکتے بلکہ آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔ کسی انفیکشن کی وجہ سے اینٹی بایوٹک کا استعمال کریں تو آپ کو دوبارہ صحت مند ہونے تک انتظار کرنے کا کہا جا سکتا ہے۔ اس کےعلاوہ ڈسپرین لینے کے بعد آپ دو دن تک platelets کا عطیہ نہیں دے سکتے۔


ویکسین

فلو یا HPV کی عام ویکسین تو نہیں البتہ چند ویکسینز ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں وبائی ایجنٹس ہوتے ہیں۔ ایسے افراد مخصوص عرصے تک کے لیے خون نہیں دے سکتے جیسا کہ خسرہ، داد یا چیچک کی ویکسین لینے کے بعد کم از کم چار ہفتے کے لیے۔


ہپاٹائٹس یا HIV

HIV اور ہپاٹائٹس دونوں امراض انتقالِ خون کے ذریعے منتقل ہو سکتے ہیں، اس لیے اگر کسی ایک مرض کا بھی ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے تو آپ خون نہیں دے سکتے۔ چند اقسام کے ہپاٹائٹس لاعلاج ہیں اور ان سے صحت  کو سنگین خطرناک لاحق ہو سکتے ہیں جیسا کہ جگر کا ناکارہ ہونا اور جگر کا سرطان۔ اس لیے ایسے کسی بھی مرض کے حامل فرد کا خون دینا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔


کم وزن

اگر آپ کا وزن 110 پونڈز سے کم ہے تو آپ خون نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹروں کے مطابق کم وزن رکھنے والے افراد میں خون کی مقدار کم ہوتی ہے، اس لیے وہ اسے بھی عطیہ کرنا برداشت نہیں کر سکتے۔


معمولی امراض

اگر خون کا عطیہ دینے والے دن آپ کی طبیعت صحیح نہیں، چاہے نزلہ زکام، گلے کی خراش یا سردرد ہی کیوں نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ عطیہ دینے کے لیے کسی دوسرے دن کا انتخاب کریں۔ طبیعت بحال ہونے کے بعد کم از کم 48 گھنٹے کا انتظار کرنا ہوگا کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق خون دینے کے لیے آپ کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔


کینسر

گو کہ انتقالِ خون کے ذریعے کینسر پھیلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ ماہرینِ صحت کے مطابق ایسا ہونا ممکن ہی نہیں، لیکن پھر بھی احتیاطاً انہیں خون کا عطیہ دینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔


دورانِ حمل

گو کہ حمل کے دوران  عام دنوں کے مقابلے میں جسم میں موجود خون کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، لیکن ایسی خواتین کو وضعِ حمل کے بعد کم از کم چھ ہفتے تک خون نہیں دینا چاہیے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران عورت کو صحت کی بہترین حالت میں ہونا چاہیے۔


ناک کان چھدوانے کے بعد

اگر آپ نے حال ہی میں کان یا ناک چھدوائی ہے تو  آپ پورے 12 مہینے تک کسی کو خون نہیں دے سکتیں۔ جسم پر ٹیٹو بنوانے کی طرح اگر ناک کان چھدوانے میں بھی دوبارہ استعمال کے قابل آلات استعمال کیے گئے ہیں تو ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔ لیکن اگر واحد استعمال کے آلات سے چھید کیے گئے ہیں تو پھر جو ڈاکٹر تجویز کریں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں