39 سال جیل میں گزارنے والا بے گناہ شخص 21 ملین ڈالرز کا حقدار

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ایسے شخص کو 21 ملین ڈالرز زرِ تلافی دیا گیا ہے کہ جو اپنی سابقہ گرل فرینڈ اور اس کے بیٹے کے قتل کے الزام میں 39 سال تک جیل میں رہا۔

71 سالہ کریگ کولی کو 1978ء رونڈ وچ اور ان کے چار سالہ بیٹے ڈونلڈ کے قتل پر عمر قید سنائی گئی تھی۔ پورے مقدمے کے دوران بارہا انہوں نے خود کو بے گناہ قرار دیا لیکن انہیں رہائی 2017ء میں DNA ثبوت غلط ثابت ہونے کے بعد ہی ملی۔

سمی ویلی سٹی کی شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی رقم، چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، کولی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی تلافی نہیں کر سکتی۔ 39 سال کیلیفورنیا میں رہا ہونے والے کسی بھی سزا یافتہ شخص کا قید میں گزارا گیا سب سے بڑا عرصہ ہے۔

رہائی کے بعد کولی نے خود کو بے گناہ کہنے والے قیدیوں کے والدین سے بھی ملاقاتیں کیں۔

1989ء سے اب تک 350 سے زیادہ ایسے امریکی قیدی رہا ہو چکے ہیں جنہیں DNA ثبوت کے بعد بے گناہ قرار دیا گیا۔ یعنی یہ طریقہ غلطی سے سزا پانے والوں کی رہائی میں مدد دیتا ہے لیکن اس طریقے سے رہائی پانے والے افراد نے اوسطاً 14 سال قید کاٹی ہے۔

کیلیفورنیا کے حکام نے پچھلے سال کولی کو 1.95 ملین ڈالرز دیے تھے یعنی کہ جیل میں گزارے گئے ہر دن کے عوض 140 ڈالرز۔ اس وقت یہ حکومت کی جانب سے غلط سزا دینے پر دی گئی سب سے بڑی رقم دی۔ اس رقم سے کولی نے ایک گھر خریدا اور اب ملنے والی نئی رقم سے وہ اپنی فہرست میں موجود مقامات کا دورہ کریں گے اور ان کی طرح غلطی سے سزا پانے والوں کی مدد جاری رکھیں گے۔

Craig Coley, who spent 39 years in prison for a murder he didn't commit, talks with reporters Thursday, Feb. 15, 2018, in Sacramento, Calif. Coley says it was the "worst nightmare" and even nearly $2 million in state compensation can't make up for his lost time. (AP Photo/Rich Pedroncelli)

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں