کیا آپ کے بچے کو تنگ کیا جارہا ہے؟ جانیں چند علامتوں سے

بچے پھولوں کی طرح نازک ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ والدین ان کا اسی طرح خیال رکھتے ہیں۔ ان کے نازک جسم اور ذہن کو زمانے کے سرد و گرم سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بچوں نے بہرحال گھر سے باہر تو جانا ہے، تعلیم کے حصول کے لیے، جسمانی سرگرمی کے لیے تو کچھ انہیں معاشرے کے سخت حقائق کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جیسا کہ اسکول میں کوئی دوسرا بچہ انہیں تنگ کر رہا ہو۔ عموماً بچے خوف یا دباؤ کی وجہ سے ایسی باتیں بتانے سے  گریز کرتے ہیں، بطور والدین یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ خود اندازہ لگائیں کہ بچہ کسی پریشانی کا شکار تو نہیں؟ کیونکہ اس عمر میں کسی کے ہاتھوں تنگ ہونے کی وجہ سے تناؤ بچے کی ذہنی صحت کے لیے بالکل بھی اچھا نہیں

اگر بچے کے رویّے میں اچانک تبدیلی رونما ہو جائے تو گویا خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اگر بچہ اسکول جاتے وقت ناخوشی کا اظہار کرتا ہے تو سمجھ جائيں کہ اسکول میں اسے کسی مسئلے کا سامنا ہے کیونکہ زیادہ تر اسکول ہی میں بچوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔

بچے کا صبح اٹھتے ہوئے تاخیری حربے استعمال کرنا اور پوری کوشش کرنا کہ کسی طرح اسکول کی چھٹی ہو جائے، کسی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ چھوٹے بچے درد اور تکلیف کے بہانے بھی کرنے لگتے ہیں اور کبھی کبھی تو اسکول سے فون آ جاتا ہے کہ بچے کے پیٹ میں درد ہو رہا ہے، اسے جلدی آ کر لے جائیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر بچہ ہر پیر کے دن چھٹی پر اصرار کرے تو سمجھ جائیں گے گڑبڑ ہے۔ پیر کے دن کا انتخاب بچہ اس لیے کرتا ہے کیونکہ وہ دن گھر کے آرام دہ اور ذہنی تناؤ سے آزاد ماحول میں گزارنے کے بعد اس کا ہرگز دل نہیں چاہتا کہ وہ دوبارہ تنگ ہونے کے لیے اسکول جائے۔

اگر بچہ پیٹ میں یا سر میں درد کی شکایت کرے تو عموماً اسے ایک بہانہ سمجھا جاتا ہے لیکن ذہنی تناؤ اور اضطراب کے نتیجے میں پہلا اثر سر اور پیٹ پر ہی پڑتا ہے۔ اگر بچہ بارہا صبح اٹھنے کے بعد شکایت کرے تو معلومات کریں کہ آخر ایسا کیا مسئلہ ہے کہ اسے اسکول جاتے ہوئے ذہنی پریشانی ہو رہی ہے۔

اگر بچہ اچانک دوستیوں کا خاتمہ کردے یا اس میں تبدیلی لائے تو یہ بھی اس کی علامت ہو سکتی ہے کہ بچے کو کوئی تنگ کر رہا ہے۔  یہ خاص طور پر بڑے بچوں میں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، دوستوں کے ساتھ بیٹھنے میں ہچکچاہٹ بھی علامت ہے کہ کوئی "دوست" بچے کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔

اگر بچے کو پریشانی ہو کہ اگلے روز اسکول میں اس کے ساتھ کیا ہوگا؟ تو وہ سونے میں پریشان ہوگا۔ بار بار کروٹیں بدلتا رہے، صبح ناشتے پر کندھے جھکے ہوئے ہوں یا معمول سے زیادہ تھکا ماندہ دکھائی دے تو یہ واضح علامت ہے کہ نیند خراب ہو رہی ہے۔ خوراک میں کمی آنا اور روزمرہ امور پر توجہ کم ہو جانا بھی ذہنی تناؤ کو ظاہر کرتا ہے جس کا سبب کسی کی جانب سے تنگ کرنا ہو سکتا ہے۔

اسکول یا سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو پر بچے کا عمل شدید جذباتی ہو جائے تو یہ بھی اس کے ذہنی تناؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ چھوٹی عمر کے بچے اسکول میں ہونے والے واقعات اور باتیں بہت زیادہ بتاتے ہیں، اس لیے اگر ان میں کوئی جذباتی پن نظر آئے تو ہوشیار ہو جائیں کہ کوئی انہیں ڈرا دھمکا رہا ہے۔

اگر بچہ معمول کی جتنی گفتگو بھی بند کردے یا اسکول سے آتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں چلا جائے تو بھی ہوشیار ہو جائیے۔ بہن بھائیوں سے بے لڑائی جھگڑا کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ بچے کو کوئی طویل عرصے سے تنگ کر رہا ہے۔

جدید دور میں سب کچھ آن لائن ہو گیا ہے اور ڈرانے دھمکانے کا یہ سلسلہ بھی انٹرنیٹ کی دنیا میں آ گیا ہے۔ اگر بچے کو اسکول کا کوئی ہم جماعت یا محلے کا کوئی بدمعاش بچہ آن لائن تنگ کر رہا ہے تو آپ جان سکتے ہیں اگر بچہ اچانک الیکٹرانک ڈیوائس کا استعمال چھوڑ دے۔

سب سے واضح علامت جو آپ کو مل سکتی ہے کہ بچہ کبھی باہر سے آئے تو اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوں یا جسم پر کوئی خراش یا چوٹ کا نشان ہو۔ اگر بچہ اس کی صحیح وضاحت نہ دے سکے اور بات کو ٹالنے لگے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی دوسرے بچے نے اسے مارا ہے اور اس کے دھمکانے کی وجہ سے وہ آپ کو نہیں بتا رہا۔

ایسی کسی بھی علامت میں صورت حال کو قابو میں کریں، جانچ کریں اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اسکول میں اساتذہ یا پرنسپل سے رابطہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ حالات کو قابو کیا جائے ورنہ خوف کے ماحول میں بچے کی ذہنی صحت بہت متاثر ہوتی ہے اور اس کے اثرات تاعمر رہتے ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں