26 ملین ڈالرز کا خرچ، وہی ڈھاک کے تین پات

نیوزی لینڈ کے عوام نے نئے پرچم کے انتخاب کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں اپنے پرانے جھنڈے ہی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کہ نوآبادیاتی دور سے برطانیہ کا قومی پرچم ”یونین جیک“ جس کا حصہ ہے۔ یعنی لگ بھگ ڈیڑھ سال کی کوشش اور 26 ملین ڈالرز کے اخراجات کے بعد نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا۔
ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کے مطابق 56.6 فیصد باشندوں نے موجودہ پرچم کو برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ نیلے پس منظر پر سرخ رنگ کے چار ستاروں کا حامل یہ پرچم دائیں بالائی کونے میں ”یونین جیک“ رکھتا ہے، جو کئی سابق برطانوی نوآبادیات کے پرچموں کا حصہ ہے۔
پرچم کی تبدیلی کے حامیوں میں وزیر اعظم جان کی بھی شامل ہیں، جن کو امید تھی کہ ملک یونین جیک سے نجات پالے گا۔ تبدیلی کے خواہشمند نوآبادیاتی تاریخ کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی ترین پڑوسی آسٹریلیا کے پرچم سے مشابہت کو بھی وجہ گردانتے تھے۔ دونوں میں محض رنگت کا معمولی فرق اور ستاروں کی تعداد کا ہے۔ پرچم کی تبدیلی کے لیے ریفرنڈم کروانے کا اعلان اکتوبر 2014ء میں کیا گیا تھا جس کے بعد 10 ہزار ڈیزائن پیش کیے گئے تھے، جن میں سے چند ہی حتمی مقابلے میں شریک تھے۔
ریفرنڈم میں کل 21 لاکھ افراد نے ووٹ ڈالا، جو کل رجسٹرڈ ووٹرز کا 67.3 فیصد بنتے ہیں اور متبادل پرچم کے انتخاب کے لیے ہونے والے پہلے ریفرنڈم سے زیادہ تھے، جس میں کل 49 فیصد نے ووٹ ڈالا تھا۔ حتمی نتیجے کا اعلان 30 مارچ کو ہوگا۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں